اسرائیل نے فلسطینیوں کے چودہ ہزار مکانات تباہ کرنے کا حکم جاری کیا: اقوام متحدہ
Sep ۰۷, ۲۰۱۵ ۲۱:۰۵ Asia/Tehran
-
اسرائيلی فوجی فلسطینیوں کے مکانات ڈھا رہے ہیں(فائل فوٹو)
اسرائیلی حکومت غرب اردن میں فلسطینیوں کے چودہ ہزار مکانات اور عمارتوں کو ڈھائے جانے کا حکم جاری کرچکی ہے-
اقوام متحدہ کے انسان دوستانہ امور کے کوآرڈینیٹر آفس نے، متعلقہ اسرائیلی حکام سے حاصل ہونے والی اطلاعات کی بنیاد پر اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ تل ابیب نے انیس سو اٹھاسی سے دو ہزار چودہ کے درمیانی برسوں میں فلسطینیوں سے متعلق چودہ ہزار سے زائد عمارتیں تباہ کرنے کا حکم جاری کیا ہے- اس عالمی ادارے نے کہا ہے کہ رہائشی مکانات کے ڈھائے جانے کے نتیجے میں فلسطینی شہری بے گھر اور ان کی زندگی سخت مشکلات سے دوچار ہوجاتی ہے- تل ابیب کا دعوی ہے کہ یہ عمارتیں غیر قانوںی طور پر بنائی گئی تھیں لیکن فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے تعمیری پرمٹ کی درخواستوں کو عام طور پر مسترد کردیا جاتاہے- اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے اگست کے مہینے میں صرف ایک ہفتے میں ترسٹھ رہائشی مکانات اور عمارتوں کو ڈھائے جانے اور ایک سو بتیس فلسیطینیوں کو بے گھر کئے جانے کا حکم جاری کیا تھا- کہا جارہا ہے کہ سال دوہزار پندرہ کے آغاز سے اب تک پانچ سو پچاس فلسیطنی بے گھر ہوئے ہیں اور گذشتہ تین برسوں میں بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی یہ تعداد ایک ریکارڈ ہے- واضح رہے کہ پانچ لاکھ سے زائد اسرائیلی، غرب اردن اور مشرقی بیت المقدس میں انیس سو سرسٹھ سے اب تک فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں بنائی گئی ایک سو بیس سے زائد غیرقانونی کالونیوں میں زندگی گذار رہے ہیں-