Aug ۲۸, ۲۰۱۶ ۱۵:۱۵ Asia/Tehran
  • طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعوی کیا ہے کہ جانی خیل علاقے پر حملے کے دوران ہلکے اور بھاری ہتھیار اور بکتر بندگاڑیوں سمیت جنگی سازوسامان بھی طالبان کے ہاتھ لگا ہے۔
    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعوی کیا ہے کہ جانی خیل علاقے پر حملے کے دوران ہلکے اور بھاری ہتھیار اور بکتر بندگاڑیوں سمیت جنگی سازوسامان بھی طالبان کے ہاتھ لگا ہے۔

افغانستان کے مشرقی صوبے پکتیا کے بعض علاقوں پر طالبان نے قبضہ کر لیا ہے۔

روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق، صوبہ پکتیا کے جانی خیل علاقے پر طالبان کے حملے میں افغانستان کے بیس سے زیادہ فوجی اور پولیس اہلکار جاں بحق اور بیس زخمی ہوگئے ہیں۔ طالبان کا حملہ اس حد تک شدید تھا کہ افغان فوجیوں کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ اس رپورٹ کے مطابق پکتیا میں افغان فوج اور طالبان کے درمیان ہونے والے جھڑپوں میں طالبان کے دو سو عناصر ہلاک ہوئے ہیں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعوی کیا ہے کہ جانی خیل علاقے پر حملے کے دوران ہلکے اور بھاری ہتھیار اور بکتر بندگاڑیوں سمیت جنگی سازوسامان بھی طالبان کے ہاتھ لگا ہے۔

 

ٹیگس