پاکستان کی جانب سے دو امریکی تھنک ٹینکوں کی رپورٹ مسترد
Aug ۲۹, ۲۰۱۵ ۱۰:۴۴ Asia/Tehran
-
پاکستان اپنی ایٹمی قوت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے
پاکستانی حکومت نے دو امریکی تھنک ٹینکوں کا یہ دعوی مسترد کر دیا ہےکہ پاکستان اپنی ایٹمی قوت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
شین ہوا کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی وزارت خارجہ نے ہفتے کے دن ایک بیان میں امریکا کے دو تھنک ٹینکوں کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ ایسی رپورٹس کا مقصد ہندوستان کی بڑھتی ہوئی جوہری طاقت سے توجہ ہٹانا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نیوکلیئر سپلائیر گروپ کے رکن ممالک سے ہندوستان کے جوہری معاہدے خطے میں عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔پاکستانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی پالیسی پر سختی سے کار بند ہے اور ہم جوہری ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہونے کا خواہش مند نہیں ہیں۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام صرف جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے ہے۔
واضح رہے کہ امریکا کی کارنیگی فاؤنڈیشن اور اسٹمسن سینٹر نے حال ہی میں ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہےکہ پاکستان آئندہ پانچ سے دس سال کے عرصے کے دوران دنیا کے تیسرے بڑے ایٹمی گودام کا حامل ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکومت سالانہ بیس ایٹمی وار ہیڈز بنا کر اپنی ایٹمی طاقت تیزی سے بڑھانے کے لئے کوشاں ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پاکستان اپنے دیرینہ حریف ہندوستان کی بڑھتی ہوئی ایٹمی طاقت پر تشویش کی وجہ سے یہ اقدام کر رہا ہے۔
واضح رہےکہ پاکستان، ہندوستان اور اسرائیل کا شمار ان معدودے چند ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے این پی ٹی معاہدے پر دستخط نہیں کئے ہیں جس کی وجہ سے بین الاقوامی معائنہ کار ان ممالک کی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ نہیں کرتے ہیں۔ az29082015