نئی دہلی: پاکستانی ہائی کمیشن کا ایک افسر ملک بدر
ہندوستان نے جاسوسی کا الزام عائد کرکے پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک افسر کو ’ناپسندیدہ شخص‘ قرار دے کر اڑتالیس گھنٹوں کے اندر اندر ملک چھوڑ دینے کا حکم دے دیا۔
پاکستانی میڈیا کے مطابق ہندوستان کے دارالحکومت نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے افسرمحمود اختر کو دہلی پولیس نے جاسوسی کے الزام میں حراست میں لینے کےکچھ دیر بعد انہیں رہا کردیا ۔ جبکہ بعض خبروں میں ان کی گرفتاری کی تردید کی گئی ہے۔
جبکہ ہندوستانی میڈیا کا کہنا ہے کہ محمود اختر ہائی کمشنر عبدالباسط کے قافلے میں شامل تھا اور اس کے پاس فوج سے متعلق انتہائی خفیہ دستاویز موجود تھیں۔
بعد ازاں ہندوستانی دفتر خارجہ کے ترجمان وکاس سواروپ نے ٹوئیٹر پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ ’سیکریٹری خارجہ نے پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کیا اور انہیں اس بات سے آگاہ کیا کہ ان کے ایک افسر کو ناپسندیدہ شخص قرار دیا گیا ہے‘۔
واضح رہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات گزشتہ چند ماہ سے کشیدگی کا شکار ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کی وجہ کشمیر کی موجودہ صورتحال، اڑی حملہ اور کنٹرول لائن پر مسلسل ہونے والی فائرنگ ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کنٹرول لائن پر گزشتہ گیارہ گھنٹے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی فوج کی فائرنگ سے پانچ عام شہری زخمی ہوئے ہیں۔