Oct ۱۷, ۲۰۱۷ ۱۲:۰۳ Asia/Tehran
  • مشرق وسطٰی میں جنگ کی آگ امریکہ و مغرب نے لگائی: مولانا نوراللہ

پاکستان کے معروف اہلسنت عالم دین مولانا نوراللہ کا کہنا ہے کہ مشرق وسطٰی کو فروعی اختلافات کے بجائے امریکی عالمگیریت کے ایجنڈے کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) بلوچستان کے صوبائی نائب امیر مولانا نوراللہ کا کہنا ہے کہ روز اول سے ہماری کوشش یہی رہی ہے کہ امت مسلمہ کے اندر اتفاق ہو اور ہماری کفری غلامی سے نجات ممکن ہو۔ امریکہ اور کفری طاقتیں چاہتی ہیں کہ امت مسلمہ آپس کے اختلافات میں الجھی رہے اور ترقی نہ کرے جبکہ ہمیں عراق، شام اور افغانستان سے سبق سیکھتے ہوئے اپنے افکار اور کردار میں مثبت تبدیلی لانی ہوگی، کیونکہ تفرقے کے نام پراگر کوئی ہوا چلی تو اس کی لپیٹ میں آکر سب جل جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ فروعی، جزوی اختلافات کو ہوا دینا امت مسلمہ سے کھلی دشمنی ہے۔ مشرق وسطٰی میں جنگ کی آگ امریکہ و مغرب نے لگائی ہے تاکہ مسلمانوں کو تقسیم کرکے کمزور بنا دیا جائے۔ مشرق وسطٰی کو شیعہ سنی کے فروعی اختلافات کے تناظر میں نہیں، بلکہ عالمی استعمار امریکہ کی عالمگیریت کے ایجنڈے کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔

مولانا نوراللہ کا کہنا تھا کہ داعش امریکہ کی پیداوار ہے اور دہشتگرد مختلف نام بدل کر کارروائی کرتے ہیں۔ پاکستان میں امریکہ اپنی جنگ مسلط کرکے اوراسلام کے خلاف سازشیں کرکے اسلام کو بدنام کرنا چاہتا ہے، کیونکہ اس کے اپنے مفادات ہیں۔ امریکہ کہتا ہے کہ پوری دنیا پر جنگ مسلط کرنے میں ہی امریکہ کی بقاء ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام امن کا درس دیتا ہےعوام امن بھائی چارے کی فضاء کو برقرار رکھنے کے لئے آپس میں اتحاد و اتفاق پیدا کریں اس لئے کہ اسلام دشمن قوتیں اپنے مذموم ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اور وہ اسلام اور عقیدے کی بنیاد پر لوگوں کو استعمال کرتے ہیں۔ اہل عقل و دانش اور علماء پر لازم ہے کہ وہ عوام کو گمراہ لوگوں کے عزائم سے باخبررکھیں۔

 

ٹیگس