Oct ۲۶, ۲۰۱۷ ۰۸:۴۲ Asia/Tehran
  • پاکستان، امریکہ سے دوستی کی سزا بھگت رہا ہے

پاکستان کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان، امریکہ سے دوستی کی سزا بھگت رہا ہے۔

سینیٹ میں پاک - امریکا تعلقات پر پالیسی بیان دیتے ہوئے پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کے امریکا کے ساتھ تعلقات 70 سال پرانے ہیں، ہمارا اقتدار امریکا کی نہیں 20 کروڑ عوام کی مرہون منت ہے اور اس اقتدار کو بچانے کے لئے امریکی رضا نہیں صرف اللہ کی رضا چاہئے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ وائسرائے نہیں اور ہم امریکا سے برابری کی سطح پر تعلقات چاہتے ہیں، نائن الیون کے بعد امریکا سے بڑا سمجھوتہ کیا گیا اور اس کا نتیجہ آج بھگتنا پڑ رہا ہے، وہ ہمیں فہرست دیتے تھے اور ہم بندے پکڑ کر انہیں بیچتے تھے، ماضی میں بندے بیچنے کے بدلے میں کیا کیا وصول کیا گیا، مناسب ہوگا اس معاملے پر ایوان میں بحث ہو ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت اور ہمارے ادارے پاکستان کے مفاد کو آخری دم تک تحفظ دیں گے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ٹرمپ کی تقریر کے جواب میں ہم نے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا، گزشتہ روز ایک ہی میز پر بیٹھ کر سویلین اور فوجی قیادت نے مل کر امریکا سے بات کی۔ ہم کسی بھی مرحلے پرامریکا کے دباؤ میں نہیں آئے۔ امریکا سے مذاکرات میں کسی کا لہجہ نا تو معذرت خواہانہ تھا اور نا ہی کوئی ہچکچاہٹ تھی۔ جو باتیں ہم نے بند کمرے میں بیٹھ کر کیں وہ سب کے سامنے کہہ رہے ہیں۔ ہم نے امریکا کو واضح طور پر کہا کہ ہمیں کوئی امداد نہیں چاہئے ہمیں اپنا وقار چاہئے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان کے 45 فیصد حصے پر وہاں کی حکومت کی عمل داری ہی نہیں، امریکا کو بتا دیا کہ طالبان ہمارے کفیل نہیں، ماضی میں پاکستان کا افغان طالبان پراثر و رسوخ تھا لیکن اب یہ کم ہوچکا ہے۔ طالبان کی کفالت اب کوئی اور کر رہا ہے ۔ انہوں نے اپنے لئے کوئی اور ذریعہ ڈھونڈ لیا ہے، افغانستان کی پناہ گاہیں ان دہشت گردوں کے لئے کافی ہیں، انہیں ہماری پناہ گاہیں نہیں چاہئیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ امریکا کی ہمارے پڑوس میں کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں، ان کے سامنے 16 برسوں کی ناکامیاں ہیں، وہ جرنیل جنہوں نے جنگ ہاری ہے وہ کبھی ایسی پالیسی تشکیل نہیں ہونے دیں گے جس میں انہیں اپنی ناکامی کا اعتراف کرنا پڑے۔

انہوں نے کہا جب تک افغان مہاجرین ہمارے ملک میں ہیں دہشت گردوں کا آنا جانا لگا رہے گا، ہم نے امریکا سے کہا کہ پاک - افغان بارڈر پر جو باڑ لگا رہے ہیں اس کی تعمیر اپنے خرچے پر کر رہے ہیں۔

پاکستان کے وزیر خارجہ نےکہا کہ افغانستان میں امن ہمارے اور خطے کے مفاد میں ہے کیونکہ پاکستان میں امن اسی وقت ہوگا جب افغانستان میں امن ہوگا، ہم نے ان پر واضح کیا ہے کہ اس مسئلے کا حل ملٹری سلوشن سے نہیں مذاکرات سے اس مسئلے کا حل نکلے گا۔

پاکستان کےوزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا جن لوگوں کے ساتھ لڑ رہا ہے وہ ان میں تفریق کر رہا ہے، امریکی سمجھتے ہیں کہ طالبان سے بات ہوسکتی ہے لیکن حقانی نیٹ ورک سے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ 75 ناموں کی لسٹ میں سر فہرست حقانی گروپ کا نام ہے تاہم حافظ سعید کا نام نہیں لیا گیا ہے ۔

ٹیگس