Mar ۱۱, ۲۰۲۲ ۱۱:۰۲ Asia/Tehran
  • فضائی حدود کی مبینہ خلاف ورزی پر ہندوستانی ناظم الامور اسلام آباد میں طلب

پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار احمد نے دعوی کیا ہے کہ ہندوستانی ساختہ سپر سانک آبجیکٹ کی پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے معاملے میں ہندوستانی ناظم الامور کو دفترِ خارجہ طلب کیا گیا اور پاکستان کی ناراضگی سے انہیں مطلع کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ پراوز کرنے والی چیز 9 مارچ کو پاکستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے 6 بجے ہندوستان کے علاقے سورت گڑھ سے پاکستان میں داخل ہوئی اور تقریباً 6 بج کر 50 منٹ پر پاکستان میں میاں چنوں شہر کے قریب زمین پر گر گئی، جس سے شہری املاک کو نقصان پہنچا۔

بیان کے مطابق ہندوستانی ناظم الامور کو بتایا گیا کہ فلائنگ آبجیکٹ کے ناقص تجربے سے نہ صرف شہری املاک کو نقصان پہنچا بلکہ زمین پر انسانی جانوں کو بھی خطرہ لاحق ہوا۔

ترجمان نے دعوی کیا کہ اس کے علاوہ فلائنگ آبجیکٹ کی پرواز کے راستے کی وجہہ سے پاکستانی فضائی حدود میں اڑنے والی کئی ملکی/بین الاقوامی پروازوں کو خطرہ لاحق ہوا جس کے نتیجے میں ہوا بازی کے سنگین حادثے کے ساتھ ساتھ شہریوں کی ہلاکتیں بھی ہو سکتی تھیں۔

یہ وہ آبجکٹ ہے جس کے بارے میں پاکستان کا دعوی ہے کہ ہندوستان نے جس کے ذریعے فضائی حدود کی خلاف وروی کی

 

بیان میں کہا گیا کہ ہم واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں جس کےنتائج سے پاکستان کو بھی آگاہ کیا جائے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے ایئر فورس کے افسر کے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس کرتے ہوئے دعوی کیا کہ 9 مارچ کو 6 بج کر 33 منٹ پر ہندوستانی حدود سے ایک 'شے' نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔

پریس کانفرنس کے دوران ایئر فورس کے افسر نے فضائی حدود کی خلاف ورزی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاک فضائیہ نے اس مشکوک ’شے‘ کی مکمل نگرانی کی اور اسے گرایا۔

 

 

ٹیگس