سپر ٹیکس زبردستی نہیں بلکہ مشاورت سے لگایا گیا: پاکستانی وزیر خزانہ
پاکستان میں وزیر خزانہ نے دعوی کیا ہے کہ سپر ٹیکس زبردستی نہیں بلکہ مشاورت سے لگایا گیا ہے۔
اسلام آباد سے موصولہ رپورٹ کے مطابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ ملک کے ریئل اسٹیٹ بروکروں، بلڈروں، ہاؤسنگ سوسائٹی چلانے والوں، ریستورانوں اور کار ڈیلروں وغیرہ کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے دکانداروں اور جیولروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لئے ان کی ایسوسی ایشنوں سے بات چیت کی گئی اور ان کی مرضی سے یہ کام کیا گیا ہے۔
مفتاح اسماعیل نے سپر ٹیکس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے غریب عوام کے بجائے امیروں پر بوجھ ڈالا ہے۔
دوسری طرف سابق وزیر اعظم عمران خان نے ایک آن لائن نیوز کانفرس سے خطاب میں کہا ہے کہ سپرٹیکس کی وجہ سے کارپوریٹ ٹیکس انتالیس فیصد ہوجائے گا جبکہ ہندوستان اور بنگلادیش میں کارپوریٹ ٹیکس پچیس فیصد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپر ٹیکس کے اسٹاک مارکٹ پر منفی اثرات پڑے ہیں اور کارخانوں سے لوگوں کو نکالنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں دوہزار بائیس تیئیس کے مالی سال کے لئے تیرہ شعبوں کی بڑی صنعتوں پر اضافی دس فیصد سپر ٹیکس اور دیگر تمام شعبوں کی صنعتوں پر چار فیصد اضافی سپر ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔