Sep ۲۰, ۲۰۲۳ ۱۸:۱۶ Asia/Tehran
  • پاکستان کا بیان، مثبت اور امن  اقدامات پر ہندوستان سے منفی جواب ملا

پاکستان کے نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کہا ہے کہ سکھ برادری کے لیے ویزا فری آمد کے لیے کرتارپور راہداری کھولنے سمیت پاکستان کی جانب سے کیے گئے مثبت اور امن و آشتی کے اقدامات کا جواب ہندوستان کی جانب سے منفی انداز میں دیا گیا ہے۔

سحر نیوز/ پاکستان: نیویارک میں منعقدہ ایشیا سوسائٹی کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان، ہندوستان کے ساتھ پرامن اور باہمی تعاون پر مبنی ہمسایہ تعلقات کا خواہشمند ہے۔

پاکستان کے نگران وزیر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہندوستان کے غیر قانونی اقدامات اور اس کی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں مذہبی انتہا پسندی خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف بدتر ہوئی صورتحال نے حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔

پاکستان کے نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ اس طرح کے پیچیدہ ماحول میں ملکی انتخابات کے لیے ہندوستان کی جارحیت اور پاکستان مخالف بیانیہ دونوں ممالک کو علاقائی امن و استحکام کے مقاصد سے مزید دور لے جا رہے ہیں جب کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل پرامن تعمیری بات چیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ایسے افغانستان میں سب سے زیادہ فائدہ ہے جو پرامن ہو اور جس کے اپنے علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ پرامن تعلقات ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سب سے بڑا خطرہ تحریک طالبان پاکستان اور داعش سے ہے جب کہ یہ تنظمیں پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہی ہیں۔

ٹیگس