Nov ۰۵, ۲۰۱۹ ۲۰:۱۱ Asia/Tehran
  • آہ ؛ زمانے کا امام یتیم ہوا !

آٹھ ربیع الاول سنہ ۲۶۰ ہجری کو عراق کے شہر سامرا میں فرزند رسول حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت واقع ہوئی۔

 السَّلامُ عَلَيْكَ يَا مَوْلايَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ الْهَادِيَ الْمُهْتَدِيَ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ

السَّلامُ عَلَيْكَ يَا وَلِيَّ اللَّهِ وَ ابْنَ أَوْلِيَائِهِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا حُجَّةَ اللَّهِ وَ ابْنَ حُجَجِهِ

السَّلامُ عَلَيْكَ يَا صَفِيَّ اللَّهِ وَ ابْنَ أَصْفِيَائِهِ السَّلامُ عَلَيْكَ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ


آٹھ ربیع الاول فرزند رسول حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کا یوم شہادت ہے اور یہی وہ دن ہے جب حضرت امام مھدی علیہ السلام کی علمی حکومت کا سر آغاز ہوا، آپ بحکم خدا وندی پردہ غیبت میں ہیں اور باذن اللہ آپ ظہور فرمائیں گے۔

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنی شھادت سے کچھ عرصہ قبل ایسی نشانیاں بیان فرما دی تھیں کہ جن کے ذریعے حاکمان جور کے ظلم و ستم اور پابندیوں کے باوجود امام مھدی علیہ السلام تک لوگوں کی آپ کے نائبین خاص کے ذریعے رسائی حاصل ہوگئی اور اب یہ سلسلہ آپ کے  ظہور تک فقہا اور مجتھدین عالم کے توسط  سے  بطور عام  لوگوں کے لئے  رابطے کا ذریعہ متصور ہوگا۔ یعنی  فقیہ عادل اور مرجع دینی کو آپ کا نائب سمجھا جائے گا  جس کی اطاعت اور پیروی لوگوں پر واجب ہوگی۔

گیارہوریں امام حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام ابراہیم بت شکن کی نسل سے اور خاندان وحی و نبوت کے چشم و چراغ تھے اور روی زمین پر خلفاء خدا میں سے ایک برحق خلیفہ ، مبشّرین و منذرین و شہداء و صدیقین میں ایک مثالی شخصیت کے مالک تھے ۔ مسلمانوں کے گیارھویں پیشوا ایمان و جہاد و با عظمت امامت کی خون چکاں دو سو پچاس سالہ تاریخ ہدایت کی گیارھویں کڑی تھے جس نے خاتم انبیا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے آخری وصی خاتم اوصیا حضرت حجت بن الحسن العسکری عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی پرورش کی جو کہ انشاء اللہ جلد ہی دنیا میں عدل و انصاف کو زندہ کرکے عالمی حکومت عدل کا قیام عمل میں لائیں گے  اور دنیا سے استبداد کا خاتمہ کریں گے۔

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کا مقابلہ بھی اپنے اجداد طاہرین کی طرح اس وقت کے ظالم و جابر و استحصالی و استبدادی غاصب لٹیرے عیار و مکار عباسی خلفا سے تھا ۔ آپ کی مثال اس دور میں ایسی ہی تھی جس طرح ظلم و استبداد کی سیاہ آنداھیوں میں ایک روشن چراغ کی ہوتی ہے۔

آپ مہتدیوں اور معتمدوں کی دروغگوئی ، فریب ، سرکشی کے دور میں گم گشتہ افراد کی ہدایت کرتے رہے۔ آپ کی امامت کے دور میں عباسی خلفاء کے ظلم و استبداد کے محلوں کو گرانے کے بہت سے اہم اور تاریخی واقعات رونما ہوئے جو براہ راست امام (ع) کی ہدایات پر مبنی تھے ان میں سے مصر میں احمد بن طولون کی حکومت کا قیام ، بنی عباس کے ظلم و ستم کے خلاف حسن بن زید علوی کی درخشاں خونچکان تحریک اور آخر کار حسن بن زید کے ہاتھوں طبرستان کی فتح اور صاحب الزنج کا عظیم جشن اس دور کے اہم واقعات میں سے ہے۔

اس کے علاوہ مخفیانہ طور سے جو ارتباط امام علیہ السلام سے برقرار کئے جاتے تھے اس کی وجہ سے حکومت نے اس باب ہدایت کو بند کرنے کے لئے چند پروگرام بنائے۔

پہلے تو امام کو ایک چھاؤنی میں فوجیوں کی نگارنی میں دے دیا گیا۔ دوسرے مہتدی عباسی نے اپنے استبدادی اور ظالمانہ نظام حکومت پر نظر ثانی کی اور گھٹن کے ماحول کو بہ نسبت آزاد فضا میں تبدیل کیا اور نام نہاد، مقدس ماب، زرخرید ملّا عبدالعزیز اموی کی " دیوان مظالم " کے نام سے ریا کاری پر مبنی ایک ایسی عدالت تشکیل دی جہاں ھفتے میں ایک دن عوام آکر حکومت کے کارندوں کے ظلم و ستم کی شکایت کرتے تھے۔ لیکن اس ظاہری اور نام نہاد عدالت کا حقیقت بین مسلمانوں پر کوئی اثر نہ ہوا بلکہ روز بروز امام حسن عسکری علیہ السلام کی طرف لوگوں کا حلقہ  وسیع  سے  وسیع ترہوتا چلا گیا اور حریت پسند مسلمانوں کی تحریک سے بنی عباس کی حکومت کی بنیادیں ہلنے لگیں اور عوام کی سیل آسا تحریک سے بنی عباس کی حکومت کے زوال کے خوف سے بنی عباس نے عوام میں اپنی مقبولیت پیدا کرنے کے لئے  فیصلہ کیا گیا کہ  مال و دولت کو عوام کے درمیان تقسیم کیا جائے تا کہ لوگوں کی سرکشی کم ہو اور عوام کو خرید کر ایسا ماحول بنادیا جائے کہ جس میں امام حسن عسکری علیہ السلام کو شہید کرنے میں آسانی ہو۔

تاریخ شاہد ہے کہ تمام دنیا کے ڈکٹیٹروں کا یہ قاعدہ رہاہے کہ جب بھی ان کے استبداد کے خلاف کسی نے آواز اٹھائی تو انہوں نے اس بات کی کوشش کی کہ جلد سے جلد اس آواز کو خاموش کردیں اگرچہ شاید ان کو یہ معلوم نہیں کہ آنے والی نسل میں ان کے لئے سوائے رسوائی مذمت کے کچھ نہیں ہوگا اوران کے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی دنیا نہ صرف یہ کہ حمایت کرے گی بلکہ ان بزرگوں کو عظمت کی نگاہ سے دیکھی گی اور ان مظلوموں کی زندگی کے نقش قدم پر چل کر فخر کرے گی۔

آخر کار امام حسن عسکری علیہ السلام ابھی اپنی عمر کی چوتھی دہائی میں بھی نہ پہنچ پائے تھے کہ ایسی حالت میں جبکہ آپ نے اسلام اور اصول اسلامی اور انسانی اقدار کی حفاظت کے لئے مسلسل جد و جہد کی آٹھ ربیع الاول دو سو ساٹھ ہجری کو نماز صبح کے وقت زہردغا سے شہید کردئے گئے۔

 

 

 

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی زندگی پر طائرانہ نظر

دشمن اہل بیت علیہم السلام صالح بن وصیف نے اپنے جیسے کچھ پست افراد کو فرزند رسول حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے قید خانہ پر مامور کر رکھا تھا تا کہ وہ دن رات امام عالی مقام کو اذیتیں پہونچائیں۔

ایک بار بن وصیف نے اپنے کارندوں سے امام حسن عسکری علیہ السلام کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا: ہم ایسے شخص کے بارے میں کیا کہیں جو دنوں کو روزہ رکھتا ہے، راتوں کو عبادت کرتا ہے اور سوائے ذکر و عبادت کے کسی کام میں مشغول نہیں ہوتا۔

(بحارالانوار، ج50، ص 308 - کافی،ج1،ص512)

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام فرماتے ہیں: روزہ اور نماز کی کثرت کو عبادت نہیں کہتے، بلکہ عبادت یہ ہے کہ امور خدا میں غور و فکر سے کام لیا جائے۔ (تحف العقول)

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی چند نصیحتیں

حدیث امام حسن عسکری علیہ السلام

"جو شخص اپنے بھائی کو خاموشی کے ساتھ نصیحت کرے تو گویا اس نے اسے آراستہ کیا اور جس

نے دوسروں کے سامنے اس کو نصیحت کی گویا اس نے اسے بدشکل بنادیا"

زیارت امام حسن عسکری علیہ السلام ۔آڈیو

 

ٹیگس