شام کے صدر بشار اسد کو ہٹانے کے مطالبے پر روس کی تنقید
-
شام کے صدر بشار اسد کو ہٹانے کے مطالبے پر روس کی تنقید
روس کی وزارت خارجہ نے صدر بشار اسد کو ہٹانے کے مطالبے پر ایک بار پھر نکتہ چینی کی ہے۔
روس کی وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقدہ اجلاس میں شرکت کرنے والے شامی عوام کے حقیقی نمائندے نہیں ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بحران شام کے حل کے لیے کوئی بھی سمجھوتہ یا اتفاق رائےشام کی حکومت اور مخالف قوتوں کے درمیان ہونے والی بات چیت کے ذریعے ہونا چاہیے۔
قابل ذکر ہے کہ بدھ اور جمعرات کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں سوافراد نے ایک اجلاس میں شرکت کی تھی جنہیں سعودی عرب نے شامی حکومت کے مخالفین کا نمائندہ قرار دیا ہے۔ مذکورہ اجلاس کے اختتامی بیان میں صدر بشار اسد کی برطرفی اور شام سے غیر ملکی دہشت گردوں کے فوری انخلا پر زور دیا گیا تھا۔
روس کی وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان میں آئندہ پیر کو فرینڈز آف سیریا کے نام سے پیرس میں ہونے والے اجلاس کی بھی مخالفت کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے اجلاس امن مذاکرات پر اثرانداز ہونے کی کوشش ہیں اور اس سے شام میں آشتی کا عمل متاثر ہوگا۔
روسی وزارت خارجہ کے بیان میں مزید آیا ہے کہ ماسکو عالمی رابطہ گروپ کی کوششوں میں تعاون کے لیے تیار ہے تاہم اس بات پر زور دیتا ہے کہ شام میں اقتدار کی منتقلی کا عمل پوری طرح سے غیر مشروط ہونا چاہیے۔