Feb ۲۰, ۲۰۱۶ ۱۶:۲۹ Asia/Tehran
  • یورپی یونین میں برطانیہ کو خصوصی حیثیت دی جائے گی: برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون

برطانیہ کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت ان کے ملک کو اس تنظیم میں خصوصی حیثیت دی جائے گی۔

بریسلز میں دو روز تک بلاوقفہ جاری رہنے والے مذاکرات میں ، یورپی یونین کے رکن ملکوں کے رہنماؤں نے ایک سمجھوتہ کیا ہے جس کے تحت برطانیہ یورپی یونین میں باقی رہے گا۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب برطانیہ نے عنقریب یورپی یونین میں باقی رہنے یا نہ رہنے کے بارے میں ریفرنڈم کرانے کا اعلان کر رکھا ہے۔

سجھوتے کے مطابق ،برطانیہ یورپی یونین کے مالی شعبے کی مدد کا پابند نہیں ہوگا لہذا قوی امکان یہی ہے کہ برطانیہ میں ریفرنڈم کا نتیجہ یورپی یونین میں رہنے کے حق میں برآمد ہوگا۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے بریسلز اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کی پوری کوشش کریں گے کہ ان کا ملک یورپی یونین میں باقی رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک سمجھوتے کے بارے میں بات چیت کی ہے جس کے تحت برطانیہ کو یورپی یونین میں خصوصی حیثیت دی جائے گی۔

کیمرون نے کہا کہ برطانیہ کبھی بھی یورو مالی زون میں شامل نہیں ہوگا اور اس طرح ہم اپنی معیشت کی سلامتی کو محفوظ رکھ سکیں گے۔

انہوں نے برطانوی عوام سے اپیل کی کہ وہ ریفرنڈم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور یورپی یونین میں باقی رہنے کے حق میں فیصلہ دیں۔

برطانوی وزیراعظم نے دیگر یورپی ملکوں کے شہریوں کےلیے امیگریشن قوانین مزید سخت کرنے کا بھی اعلان کیا۔

برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان طے پانے والے حالیہ سمجھوتے کے تحت کام کی غرض سے برطانیہ آنے والے یورپی شہری ، سماجی خدمات کے حصول سے محروم رہیں گے۔

برطانوی وزیراعظم نے اس فیصلے کو ایک غیر معمولی " ہنگامی بریک " قراردیا جس پر آئندہ سات برس کے دوران عمل کیا جائے گا۔

یورپی یونین کی جانب سے برطانوی مطالبات کو تسلیم کیے جانے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔

یورپی یونین کے بعض اعلی عہدیداروں نے برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان حالیہ سمجھوتے کا خیر مقدم کیا ہے۔

جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے برطانیہ کے یورپی یونین میں باقی رہنے کے سمجھوتے کو "منصفانہ سمجھوتہ" قرار دیا ہے۔

یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے بھی اس سمجھوتے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ تاہم بعض برطانوی سیاستدانوں نے اس سمجھوتے پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔

ایسی صورتحال میں برطانوی وزیراعظم کو ریفرنڈم کے انعقاد سے پہلے، نہ صرف حزب اختلاف کی جماعتوں بلکہ کنزرویٹو پارٹی میں بھی اپنے مخالفین کو قائل کرنے کے لیے سخت محنت کرنا ہوگی۔

ٹیگس