اسلحہ کی فروخت محدود کرنے کی کوشش امریکی سینیٹ میں ناکام
امریکی سینٹ نے آتشیں اسحلہ کی فروخت کو محدود کرنے کی ایک اور کوشش کو ناکام بنادیا ہے۔
اس بل کے تحت ایسے افراد کو اسلحہ کی فروخت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا تھا جن کے نام دہشت گردی کی نگرانی والی فہرست میں شامل ہیں۔
امریکہ میں دہشت گردوں کی نگرانی والی فہرست میں شامل افراد پر اسلحہ کی خریداری کا کوئی قانون موجود نہیں ہے جبکہ اس فہرست میں دس لاکھ افراد کے نام موجود ہیں۔اس بل کو منظوری کے لیے مزید تیرہ ووٹوں کی ضرورت تھی جو حاصل نہیں ہوسکے۔ سو رکنی امریکی سینیٹ میں مسودہ قانون کی منظوری کے لیے کم سے کم ساٹھ ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
امریکی سینیٹ نے اسلحے پر کنٹرول کے حوالے سے پیش کیے جانے والے تین دیگر بلوں کوبھی مسترد کردیا ہے۔ یہ بل گزشتہ دنوں ریاست فلوریڈا کے شہر اورلینڈو میں ہمجنس پرستوں کے نائٹ کلب پر حملے کے تناظر میں پیش کئے گئے تھے۔ مذکورہ واقعے میں ایک افغانی نژاد امریکی شہری کی فائرنگ میں انچاس افراد ہلاک اور تریپن زخمی ہوگئے تھے۔
امریکہ میں ہرسال ہزاروں افراد فائرنگ کے واقعات میں ہلاک اور زخمی ہوجاتے ہیں۔
پریس ٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق اگرچہ امریکا کی دونوں سیاسی جماعتیں گن کنٹرول کے معاملے پر منقسم ہیں تاہم اس حوالے سے ہونے والے سروے کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی شہریوں کی اکثریت اسلحہ کی کھلے عام فروخت پر پابندیوں کے حق میں ہے۔ تازہ ترین سروے کے مطابق اکہتر فی صد امریکی شہری اسلحہ کی فروخت پر پابندی کے حوالے سے قانون سازی کے حق میں ہیں۔