ایران کے خلاف امریکی دشمنیوں کا سلسلہ جاری
-
اس قانون کی مدت میں قانونی طریقے سے توسیع کے لئے اسے سینیٹ میں بھی پیش ہونا پڑے گا اور پھر امریکی صدر کو بھی اس قانون پر دستخط کرنا ہوں گے-
امریکہ نے ایران کے ساتھ دشمنی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف پابندی کی مدت مزید دس سال بڑھا دی ہے-
امریکی ایوان نمائندگان میں منگل کو اس قانون کی مدت میں توسیع کے بل کو ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں ہی پارٹیوں کے ممبران نے منظوری دی ہے- اس قانون کی مدت میں قانونی طریقے سے توسیع کے لئے اسے سینیٹ میں بھی پیش ہونا پڑے گا اور پھر امریکی صدر کو بھی اس قانون پر دستخط کرنا ہوں گے- اس قانون کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے ایٹمی معاہدے کی پابندی نہیں کی تو اس قانون کے سہارے اسے سزا دی جا سکتی ہے -
یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکی حکومت نے جنوری میں ایٹمی سمجھوتے پر عمل درآمد شروع ہو جانے کے بعد بھی اس کی پابندی نہیں کی ہے - ڈیموٹو قانون کے نام سے مشہور یہ قانون پہلی بار سن انیس سو چھیانوے میں امریکی کانگریس میں منظورہوا تھا اور تب سے کئی بار اس کی مدت میں توسیع کی جا چکی ہے-
اس سے قبل ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی نے ایران پر پابندی کے قانون میں توسیع کو ایٹمی سمجھوتے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے - علی شمخانی نے کہا کہ ایٹمی مذاکرات میں شامل فریقوں اور اقوام متحدہ کے انسپیکٹروں نے ایران کی جانب سے معاہدے کی پابندی کی توثیق کی ہے اور اگر دوسرے فریق نے اس سمجھوتے کی خلاف ورزی کی تو پہلے سے طے شدہ تکنیکی کارروائیاں بڑی تیزی سے شروع کردی جائیں گی -
ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے تاکید کے ساتھ کہا کہ ایران کے خلاف پابندیوں کے قانون کی توسیع مشترکہ جامع ایکشن پلان کی خلاف ورزی ہے -
قابل ذکر ہے کہ مغرب خاص طور سے امریکہ کی جانب سے عائد پابندیاں میزائلی، ایٹمی، سائنسی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ایران کی پیشرفت کی رفتار کم کرنے سمیت اپنے کسی مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہیں-