Mar ۲۷, ۲۰۲۶ ۱۱:۰۰ Asia/Tehran

 ایران کے وزیر خارجہ نے خطے میں امریکی فوجی نقل و حرکت میں اضافے اور مذاکرات کی درخواست کو واشنگٹن کے قول و فعل میں تضاد کی علامت قرار دیا ہے۔

سحرنیوز/ایران:اپنے ترک ہم منصب کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہاکہ جارحیت کے جاری رہنا اور خطے میں مزید فوجیں روانہ کرنے کے ساتھ ہی مذاکرات کی درخواست کرنا امریکیوں کے قول و فعل میں تضاد کی علامت ہے۔

 ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے خطے کی صورتحال اور ایران کے خلاف امریکہ اور صیہونی حکومت کی مسلسل فوجی جارحیت کے نتائج کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے تہران کے خلاف امریکہ اور صیہونی حکومت کی جارحیت کو روکنے کے لیے ترکی اور خطے کے بعض ممالک کی کوششوں کو سراہتے ہوئے، اپنے ترک ہم منصب کو تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا۔

سید عباس عراقچی نے ایک بار پھر یہ بات زور دے کر کہی کہ ایران نے جنگ کا آغاز نہیں کیا بلکہ وہ اپنی ارضی سالمیت، اقتدار اعلی اور خود مختاری کا دفاع کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے کے تمام ممالک اور عالمی برادری سے توقع ہے کہ وہ ذمہ داری کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت اور جرائم کی مذمت کریں اور جارحین کو ایران پر حملوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر ان سے جواب طلب کریں۔

ترکیہ وزیر خارجہ نے ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک جنگ روکنے مین مدد دینے کے لیے تیار ہے۔

 

ہمیں فالو کریں:  

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

 

ٹیگس