Dec ۲۱, ۲۰۱۶ ۱۴:۲۹ Asia/Tehran
  • دہشت گردی کا خطرہ ، یورپی ممالک سخت گیر اسلحہ قوانین بنانے پر مجبور

عراق اور شام میں اتنہا پسند گروہوں کی حمایت کرنے والے یورپی ممالک دہشت گردانہ کارروائیوں میں اضافے کے پیش نظر اسحلہ کی خرید و فروخت کے لیے نئے اور سخت قوانین وضع کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

یورپی یونین نے تنظیم کے رکن ملکوں میں بڑھتے ہوئے دہشت گردانہ حملوں کے پیش نظر اسلحہ کی خرید و فروخت سے متعلق نئے قوانین وضع کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت دہشت گردوں اور منظم جرائم میں ملوث گروہوں کے لیے اسلحے کا حصول دشوار ہوجائے گا۔
نئے قوانین کے تحت تمام اسلحہ ساز کمپنیاں، اپنی مصنوعات اور پرزہ جات پر ٹریڈمارک ثبت کرنے اور اسلحے کی خریداری سے متعلق معلومات فوری طور پر آنلائن ڈیٹا بیس میں درج کرنے کی پابند ہوں گی جس سے پولیس کو اسلحہ کا پتہ لگانے میں آسانی ہوگی۔
البتہ انیس سو اکیانوے کے اسلحہ قوانین میں کی جانے والی اس ترمیم کا اطلاق سیمی آٹومیٹک ہتھیاروں پر نہیں ہوگا جسے نئے قوانین کی کمزوری تصور کیا جارہا ہے۔
تجاویز کو قانون کا درجہ دینے کے لیے یورپی پارلیمنٹ سے اس کی منظوری لینا ہوگی اور کہا جا رہا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ کے زیادہ تر ارکان نے اس کی حمایت کا یقین دلایا ہے۔
برلن کے کرسمس بازار میں ٹرک حملے کے بعد یورپی شہریوں میں شدید خوف و ہراس پیدا ہوگیا ہے جس میں بارہ افراد ہلاک اور پچاس زخمی ہوگئے تھے۔
بیلجیئم میں بھی دس افراد کی گرفتاری کے بعد دہشت گردی کے ایک منصوبے کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔اسی طرح برطانیہ میں ایک خاتون سمیت چھے افراد کو دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
انسداد دہشت گردی سے متعلق یورپی یونین کے کوآرڈی نیٹر جیل دوگرشوف نے اس سے  پہلے خبردار کیا تھا کہ عراق اور شام میں دہشت گردوں کی شکست اور دہشت گرد عناصر کی اپنے ملکوں میں  واپسی کا معاملہ انتہائی اہم ہے اور اس سے یورپ کی سلامتی کو ٹھوس خطرات لاحق ہوں گے۔
حالیہ چند برس کے دوران سیکڑوں کی تعداد میں یورپی شہری داعش سمیت مشرق وسطی میں سرگرم دیگر دہشت گرد گروہوں میں شامل ہوئے ہیں اور شام مخالفین کے لیے یورپی ملکوں کی مالی اور فوجی حمایت کے نتیجے ہی میں ان دشت گرد گروہوں کا قیام عمل میں آیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق عراق اور شام میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں یورپی ملکوں کے شہریوں کا تناسب پندرہ سے بیس فی صدر کے برابر ہے جبکہ تیس سے پینتس فی صد تک یورپی دہشت گرد اپنے اپنے ملکوں کو واپس چلے گیے ہیں ۔
یورپی پولیس نے خبردار کیا ہے کہ عرا ق اور شام میں داعش کے کمزور پڑنے کی صورت میں یورپ میں جدید طریقوں سے زیادہ سے زیادہ دہشت گردانہ حملے کرنے کی کوشش کرے گا۔
یوروپول کا کہنا ہے کہ پچھلے دو برس کے دوران ، فرانس میں داعش کے حملوں سے واضح ہوگیا ہے کہ داعش کی ایما پر یورپ میں دہشت گردی پھیلانے والے افراد ایسے مزید اور پیچیدہ حملوں کی توانائی رکھتے ہیں۔
داعش نے گزشتہ سال نومبر میں فرانس کے دارالحکومت پیرس میں دہشت گردانہ حملے کرکے، ایک سو تیس افراد کو ہلاک کردیا تھا۔ تحقیقات کے مطابق اس حملے میں ملوث زیادہ ترافراد کا تعلق بیلجیئم سے تھا۔
فرانس کے صدر فرانسو اولینڈ نے کہا ہے کہ ملک میں دہشت کردی کے خطرات میں زبردست اضافہ ہوا ہے ۔
ادھر جرمنی کے وزیرخارجہ نے یورپی یونین اور مغربی دنیا کے تمام ملکوں میں دہشت گردی کا خطرہ پوری شدت کے ساتھ موجود ہے۔

جرمن حکام نے برلن کے واقعے کے بعد ، ملک میں دہش گردی کے مزید حملوں کا خدشتہ ظاہر کیا ہے۔
اٹلی بھی کرسمس بازاروں کی حفظت کے لیے سات ہزار فوجیوں کو تعینات کردیا گیا ہے۔

 

ٹیگس