May ۱۰, ۲۰۱۷ ۱۴:۳۱ Asia/Tehran
  • یورپ و امریکہ کو ایٹمی معاہدے پر مکمل طور سے عمل درآمد کرنا ہو گا، فیڈریکا موگرینی

یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے کہا ہے کہ حکومت امریکہ کو براہ راست طور پر بتایا جا چکا ہے کہ یورپی یونین نے ایران کے ساتھ طے پانے والے ایٹمی معاہدے پر ہمیشہ عمل درآمد کیا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سب کو اس معاہدے پر عمل درآمد کرنا ہو گا۔

ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے منگل کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا ہے کہ انھوں نے امریکی حکام سے ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد اور علاقے اور خاص طور سے یمن اور بحران شام کے حل میں ایران کے کردار کے بارے میں گفتگو کی ہے۔انھوں نے کہا کہ ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران کی جانب سے معاہدے پر عمل کیا جا رہا ہے بنابریں تمام فریق اس معاہدے پر عمل کرنے اور خاص طور سے ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کے تعلق سے پابندیاں ختم کئے جانے کے پابند ہیں۔فیڈریکا موگرینی نے زور دے کر کہا کہ یورپی یونین ایران کے ساتھ طے پانے والے ایٹمی معاہدے کی مکمل طور پر حمایت کرتی ہے۔فرانس کے نومنتخب صدر کے خارجہ امور کے مشیر نے بھی اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک، ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان طے پانے والے ایٹمی معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد کئے جانے کا خواہاں ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ امانوئل میکرون کی حکومت ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان طے پانے والے ایٹمی معاہدے کو جاری رکھے جانے میں قریبی تعاون کی خواہاں ہے اور اسے یقین ہے کہ یہ معاہدہ نہ صرف باقی رہے گا بلکہ اس پر مکمل طور پر عمل درآمد بھی کیا جاتا رہے گا۔اوریلین لوشووالیہ نے یہ بھی کہا کہ وائٹ ہاؤس کو آزاد تجارت، ایران کے ساتھ طے پانے والے ایٹمی معاہدے اور پانی و فضائی سمجھوتے کے بارے میں پیرس کو اپنے موقف سے متعلق جواب دینا ہو گا۔قابل ذکر ہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان چودہ جولائی دو ہزار پندرہ کو ایٹمی معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں جس پر سولہ جنوری سنہ دو ہزار سولہ سے عمل درآمد شروع ہوا ہے۔یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں لاپرواہی و خلاف ورزی کا سلسلہ جاری ہے اور امریکی صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو امریکہ کی تاریخ کا بدترین معاہدہ قرار دیا ہے۔

ٹیگس