طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کریک ڈاون کا مطالبہ
امریکہ نے طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے مزید 6 افراد کو امریکی بلیک لسٹ میں شامل کر لیا ہے۔
امریکا نے جمعرات کے روز پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ وہ طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف مزید کریک ڈاون کرے۔
امریکہ نے ایک بار پھر پاکستان سے کہا ہے کہ وہ حقانی نیٹ اور طالبان کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے سے روکنے کے لئے ہمارے ساتھ مل کر کام کرے۔ اس کے علاوہ واشنگٹن نے طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے مزید 6 افراد کو اپنی پابندیوں کی لسٹ میں بھی شامل کرلیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانے کے حکام کا کہنا ہے کہ ان 6 میں سے 5 عہدیداروں پر فنڈز ٹرانسفر اور اکٹھا کرنے اور مذکورہ گروہوں کو ساز و سامان اور مادی تعاون فراہم کرنے کے بھی الزامات ہیں۔
نئی امریکی پابندیوں کے شکار طالبان کے 4 عہدیداروں میں سے 3 عبد القدیر بصیر عبد البصیر، عبدالصمد ثانی اور حافظ محمد پوپلزئی شامل ہیں جو طالبان کے فنانس کمیشن کے سربراہ گل آغا اسحاق زئی کی قیادت میں کام کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ طالبان کے چوتھے رکن مولوی عنایت اللہ ہیں جو طالبان کے عسکری امور کے عہدیدار اور کابل میں 2016 میں افغان اور اتحادی افواج پر حملوں کے ذمہ دار ہیں۔ ان کے علاوہ فقیر محمد اور گولا خان حامدی کے نام بھی پابندیوں کی لسٹ میں شامل کئے گئے ہیں جن پر حقانی نیٹ ورک کے لئے فنڈز اکٹھا کرنے کے الزامات ہیں۔