روس میں صدارتی انتخابات کا خیرمقدم
روس کے مشرقی علاقوں میں صدارتی انتخابات کے لئے ووٹنگ کا عمل ختم ہو گیا جہاں ٹرن آؤٹ ساٹھ فیصد سے زائد اعلان کیا گیا۔
ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق روس کے الیکشن کمیشن نے اتوار کے روز روس کے مشرقی صوبوں میں ووٹنگ کا عمل ختم ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے مگادن میں چھاسٹھ، چوکوتکا ترسٹھ، جزیرہ نمائے کام چاتکا میں ترسٹھ اور جزیرہ ساخالین میں چھپّن فیصد ٹرن آؤٹ رہا۔
روس کے الیکشن کمشنر الا پام فیلووا نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی سائٹ پر ہیکروں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا۔ انھوں نے الیکشن میں ممکنہ دھاندلی کے بارے میں شکایات کے بارے میں کہا کہ انتخابی مہم سے لے کراب تک تحریری طور پر اور یا ٹیلیفون کے ذریعے چھے ہزار تین سو چھیاسٹھ شکایات موصول ہوئیں جن کا جائزہ لیا جائے گا۔
رائے عامہ کے تازہ ترین جائزوں کے مطابق موجودہ صدر ولادیمیر پوتین کی فتح کے امکانات پوری طرح سے روشن ہیں۔ روس میں صدرات کی مدت پہلے چار سال تھی جسے سن دو ہزار آٹھ میں بڑھا کر چھے سال کر دیا گیا تھا۔ صدر ولادیمیر پوتین اس سے پہلے بھی تین بار روس کے صدر رہ چکے ہیں۔
توقع کی جا رہی ہے کہ صدر ولادیمیر پوتین چوتھی بار بھی روس کے صدر منتخب ہو جائیں گے۔ جس کے نتیجے میں روس کی عالمی اور علاقائی پالیسیوں میں تسلسل باقی رہے گا جبکہ امریکہ اور مغربی ملکوں کے ساتھ یوکرین، جزیرہ نمائے کریمیا اور شام کی صورت حال اور بہت سے دیگر معاملات پر کشکمش جاری رہنے کی توقع ہے۔