کشیدگی کا ذمہ دار برطانیہ ہے، روسی وزیر خارجہ
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤ روف نے کہا ہے کہ برطانیہ نے سابق روسی جاسوس کی پراسرار موت کے معاملے پر ماسکو لندن تعلقات کو تعطل سے دوچار کردیا ہے۔
سرگئی لاؤ روف کا کہنا تھا کہ سابق جاسوس کی موت کے بارے میں برطانیہ کی جانب سے تاحال کوئی دستاویزی ثبوت روس کو فراہم نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ روس کے ساتھ بحران کو انتہائی سطح پر لے جانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور برطانوی حکومت جنون آمیز طریقے سے اپنے اتحادیوں کو روس مخالف اقدامات پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہی ہے- روس کے ایوان صدر کرملین کے ترجمان نے سابق روسی جاسوس کی موت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لندن یہ بات قبول کرنے کو تیار نہیں ہے کہ روس کے پاس کیمیائی ہتھیار نہیں ہیں۔دیمتری پسکوف نے سابق روسی جاسوس کی موت کے بارے میں برطانیہ کے دعوے کو احمقانہ قرار دیا۔برطانیہ میں مقیم سابق برطانوی جاسوس اور اس کی بیٹی کی پر اسرار موت کے بعد سے ماسکو اور لندن کے درمیان تعلقات سخت کشیدہ ہوگئے ہیں۔برطانیہ نے روسی حکومت پر سابق جاسوس اور اس کی بیٹی کو زہردینے کا الزام عائد کیا ہے۔ جبکہ ماسکو نے اس الزام کی سختی کے ساتھ تردید کی ہے -