Mar ۳۰, ۲۰۱۸ ۱۴:۲۲ Asia/Tehran
  • روس اور مغرب میں جاری سفارتی جنگ میں شدت

روس اور مغرب کے درمیان ٹھنی سفارتی جنگ کے دوران روس نے بھی ساٹھ امریکی سفارت کاروں کو ملک سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے موجودہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں ایک بار پھر سرد جنگ کی یاد تازہ ہو گئی ہے۔

روسی میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ امریکا سے 60 روسی سفارت کاروں کی ملک بدری کے بعد ہم بھی 60 امریکی سفارت کاروں کو ملک سے نکال رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے روس کے فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور واضح کر دیا ہے کہ یہ قدم امریکا کی جانب سے روسی سفارت کاروں کی بے دخلی کے خلاف جوابی کارروائی کے طور پر اٹھایا جا رہا ہے۔
سرگئی لاوروف نے کہا کہ جس طرح امریکا نے واشنگٹن میں روسی قونصل خانے کو بند کیا ہے ماسکو سینٹ پیٹرز برگ میں قائم امریکی قونصل خانہ بند کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات ان ممالک کے خلاف بھی کیے جائیں گے جنہوں نے رواں ہفتے ہمارے سفارت کاروں کو ملک بدر کیا ہے۔
واضح رہے کہ برطانیہ میں مقیم سابق روسی جاسوس سرگئی اسکریپال کو زہر دینے کے واقعے کو بہانہ بنا کر امریکا اور یورپ سمیت 30 کے قریب ممالک نے 150 سے زائد روسی سفارت کاروں کی بے دخلی کا حکم دیا تھا۔
کچھ دنوں قبل چھیاسٹھ سالہ سابق روسی ڈبل ایجنٹ سرگئی اسکریپال اور اس کی بیٹی شہر سالز بیری میں ایک بینچ پر بے ہوشی کی حالت میں پڑے ملے تھے جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کی حالت خطرے میں بتائی جاتی ہے۔
برطانوی حکام نے یہ دعوی کرتے ہوئے کہ سرگئی اسکریپال اس کی بیٹی روس کے تیار کردہ اعصاب شکن مادے سے متاثر ہوئے ہیں، گزشتہ دنوں 23 روسی سفارت کاروں کو برطانیہ نے ملک بدر کر دیا تھا جس کے جواب میں روس نے بھی اتنی ہی تعداد میں برطانوی سفارت کو ملک سے نکالنے کے علاوہ ماسکو میں برٹش کونسل کو بھی بند کر دیا تھا۔
ادھر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ایٹونیو گوترش نے مختلف ملکوں سے روسی سفارت کاروں کے اخراج پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورت حال سے ایک بار پھر سرد جنگ کی یاد تازہ ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ روسی سفارت کاروں کے اخراج کے نتیجے میں دنیا میں جاری جھڑپیں شدت اختیار کر سکتی ہیں۔

ٹیگس