Jun ۰۱, ۲۰۱۸ ۱۷:۰۳ Asia/Tehran
  • ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کا مقابلہ کرنے سے متعلق یورپ کی پیشرفت

فرانس کے وزیر خارجہ جان ایو لے دریان نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی پابندیوں سے یورپی کمپنیوں کو محفوظ رکھنے کے سلسلے میں یورپ نے کچھ پیشرفت کی ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ نے مفادات کے منافی قوانین کا مقابلہ کرنے سے متعلق یورپی یونین کے قانون پر عمل درآمد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون، یورپی یونین کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ امریکی دباؤ کے مقابلے میں یورپی کمپنیوں کی حفاظت کرے۔

لے دریان نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ابھی صرف اتنا اقدام کافی نہیں ہے، تاکید کے ساتھ کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ڈالر کا استعمال کئے بغیر میکانزم تیار کیا جائے تاکہ ایران کے ساتھ معاملات میں یورپ کو مدد مل سکے۔

مفادات منافی اقدام کا مقابلہ کئے جانے کا قانون اس بات کا امکان بھی فراہم کرے گا کہ ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی یکطرفہ علیحدگی کے بعد بیرون ملک امریکی پابندیوں کے سلسلے میں امریکی عدالتوں کی جانب سے سنائے جانے والے فیصلوں کو نظرانداز کرتے ہوئے یورپی یونین استقامت کا مظاہرہ کرے۔

اس قانون سے یورپی کمپنیوں کے لئے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کا پاس و لحاظ رکھنا ضروری نہیں ہو گا جبکہ اس قانون کی رعایت نہ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف تادیبی اقدامات کئے جا سکیں گے۔ یورپ کا یہ قانون اس میکانزم کا بھی حامل ہے کہ ایران کے ساتھ معاملات کرنے پر ممکنہ نقصانات کی صورت میں یورپی کمپنیوں کو تاوان ادا کیا جاسکے گا۔

یورپی یونین کے اس قانون کو نومبر سن انّیس سو چھیانوے میں کیوبا کے خلاف امریکی پابندیوں کے پیدا ہونے والے تنازعہ کے دوران یورپی پارلیمنٹ سے منظوری دی گئی تھی۔ اگرچہ اس قانون پر عمل نہیں ہوا مگر یورپی یونین کی جانب سے اس قانون کے استعمال کے امکان نے امریکہ کو اس بات پر مجبور کر دیا کہ وہ اس بات کا یقین دلائے کہ یورپی کمپنیوں کے خلاف امریکی پابندیوں کا نفاذ نہیں ہو گا۔

یورپی حکام اس بات کی بھی کوشش کر رہے ہیں کہ امریکی پابندیوں سے بچنے کے لئے ایران کے سینٹرل بینک کو نقد رقم منتقل کی جائے۔

اس اقدام سے یورپی کمپنیوں کو موقع میسر ہو گا کہ وہ امریکہ کے مالی سسٹم سے الگ ہٹ کرایران سے درآمد کئے جانے والے تیل کی رقم ادا اور تہران کی مالی ضروریات کو پورا کریں۔

یورپی حکام کی جانب سے یہ کوششیں اس بنا پر کی جا رہی ہیں کہ انھیں آئی اے ای اے کی اس رپورٹ پر مکمل اطمینان حاصل ہے کہ ایران ایٹمی معاہدے پر کاربند ہے بلکہ یورپی حکام اب اس نتیجے پر بھی پہنچ گئے ہیں کہ مغربی ایشیا اور مشرق وسطی میں امریکی مہم جوئی کے اخراجات، یورپ کو ہی برداشت کرنا ہوں گے اس لئے یورپی حکام، ایٹمی معاہدے کے تحفظ کے لئے ایسے حل کی تلاش میں ہیں کہ جس سے امریکہ کے مقابلے میں اپنی آزادی کا بچاؤ کرتے ہوئے اپنے اقتصادی و تجارتی مفادات کا بھی تحفظ کر سکیں۔

دوسری جانب یورپ کو اس بات کا خدشہ ہے کہ ایٹمی معاہدے کی منسوخی کے علاقائی و عالمی سطح پر سیکورٹی کے لحاظ سے وسیع منفی نتائج برآمد ہوں گے۔

اس بارے میں یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے کا تحفظ نہ صرف یورپ کے لئے سیکورٹی سے جڑا ہوا ایک مسئلہ ہے بلکہ اس کے ل‏ئے اس بات کا ایک بڑا چیلنج بھی ہے کہ وہ اپنے فیصلے خود کرسکے۔

ٹیگس