Aug ۰۶, ۲۰۱۸ ۱۸:۱۰ Asia/Tehran
  • امریکی پابندیوں پر روک لگانے کے قانون پر عمل

یورپی یونین نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی پابندیوں پر روک لگانے والے قوانین پر منگل سے عملدرآمد شروع کردے گی۔

بریسلز میں یورپی یونین کے امور خارجہ کی انچارج اور جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے مشترکہ بیان میں ایران کے خلاف امریکی پابندیوں پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔بیان کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی پابندیاں افسوسناک ہیں اور اس کے مقابلے کے یورپی بل پر سات اگست سے عملدرآمد شروع کردیا جائے گا۔یورپی یونین کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین اور ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے پر دستخط کرنے والے دیگر ممالک اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایران میں سرمایہ کاری کے چینلوں کو کھلا رکھا جائے۔اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایٹمی معاہدے میں باقی رہنے والے ممالک نہ صرف ایران میں سرمایہ کاری کے چینلوں کو کھلا رکھنے کی کوشش کر رہے بلکہ اس بات کی بھی کوشش کر رہے ہیں کہ ایرانی تیل اور گیس کی برآمدات کا سلسلہ بھی جاری رہے۔اس بیان میں یہ بات زور دے کر کہی گئی ہے کہ ایٹمی حوالے سے ایران کے خلاف لگائی جانے والی پابندیوں کا خاتمہ ایٹمی معاہدے کی اہم ترین ضرورت ہے۔امریکی حکام نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے موقف کو تبدیل کرنے کے لیے اس کے خلاف چھے اگست سے دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ ایران اور پانچ جمع ایک گروپ نے دوسال کے اعصاب شکن مذاکرات کے بعد سن دوہزار پندرہ میں ایٹمی معاہدے پر اتفاق کیا تھا جس پر امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین نے دستخط کیے تھے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں سال آٹھ مئی کو ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدگی اختیار کرلی تھی اور تہران کے خلاف تمام پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی پر دنیا کے ملکوں خاص طور سے ایٹمی معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک نے کڑی نکتہ چینی کی تھی۔ ان ممالک کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے میں باقی ہیں اور تہران کے خلاف پابندیوں میں امریکہ کا ساتھ نہیں دیں گے۔

ٹیگس