وزير خارجہ نے بتایا کون سے ملک اپنا جہاز آبنائے ہرمز سے لے جا سکتے ہیں
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہےکہ اپنے دشمنوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
سحرنیوز/ایران: ہم نے چند ممالک کو گزرنے کی اجازت دی جنہیں ہم اپنے دوست کے طور پر تسلیم کرتے تھے۔ ہم نے چین، روس، ہندوستان، عراق اور پاکستان کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ، سید عباس عراقچی، نے ایران کے دشمنوں کی ناکامیوں، حالیہ عسکری کارروائیوں میں امریکہ کے کردار اور خطے میں تہران کے مؤقف پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔
سحر نیوز کی رپورٹ کے مطابق دشمن کی ناکامی اور ایرانی عوام کی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خارجہ عراقچی نے زور دیا کہ دشمن، ملک کو تقسیم کرنے، فوری فتح حاصل کرنے اور قومی اتحاد کو کمزور کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام ملک کی حمایت میں شب و روز سڑکوں پر موجود ہیں۔
وزیر خارجہ نے موجودہ جنگ کو ایران کی تاریخ کا ایک سنہری لمحہ قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ تہران نے دو ایٹمی طاقتوں کے مقاصد کو ناکام بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے انکشاف کیا کہ خطے میں موجود امریکی اڈوں کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ ایران کی کسی بھی علاقائی ملک سے کوئی دشمنی نہیں، بلکہ وہ صرف ان امریکی اڈوں اور مراکز کو نشانہ بناتا ہے جہاں سے ایران کے خلاف حملے کیے جاتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مذاکرات کی تجاویز کو دشمن کی شکست کا اعتراف قرار دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جو لوگ بغیر کسی شرط کے ہتھیار ڈالنے کا نعرہ لگاتے تھے، وہ اب بعض ملکوں کے اعلیٰ حکام کو مذاکرات کے لیے کیوں متحرک کر رہے ہیں؟ انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور بین الاقوامی ضمانتیں 100% قابل اعتماد نہیں ہیں۔ اصل ضمانت ایران کی اپنی دفاعی صلاحیت ہے، جس کی وجہ سے کوئی بھی ایران پر حملہ کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔
سید عباس عراقچی نے بتایا کہ چین، روس، ہندوستان عراق اور پاکستان جیسے دوست ممالک کے کچھ بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی گئی ہے، لیکن دشمن کو اس آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے کی کوئی معقول وجہ موجود نہیں ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دشمن کو ایک ایسا سبق سکھایا جانا چاہیے کہ وہ دوبارہ حملے کی جرأت نہ کرے۔ ایران چاہتا ہے کہ اسے جنگ سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ بھی ملے۔ انہوں نے بتایا کہ کئی علاقائی وزرائے خارجہ نے تہران سے رابطہ کیا ہے، لیکن ایران کا مؤقف اصولی اور مضبوط رہا ہے۔
وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ اب تک کوئی مذاکرات نہیں ہوئے اور بغیر ضمانت کے جنگ بندی، جنگ کا ایک دہرایا جانے والا سلسلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی موجودہ پالیسی "مقاومت جاری رکھنا" ہے۔
آخر میں، وزیر خارجہ عراقچی نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اس جنگ نے بہت سی حقیقتیں واضح کی ہیں، بشمول یہ کہ امریکی اڈے میزبان ممالک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے بجائے خود ان ممالک کے لیے عدم استحکام کا سبب بنے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر حملے ہوتے ہیں، تو یہ اڈے ان کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر اس بات کی تصدیق کی کہ ایران کی موجودہ پالیسی مزاحمت جاری رکھنا ہے اور کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel