ایٹمی معاہدے میں امریکہ کی یکطرفہ پسندی پر جرمنی کی تنقید
جرمن وزیر خارجہ نے امریکہ کی یکطرفہ پسندی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ جرمنی اور پوری یورپی یونین نے ایٹمی معاہدے کو باقی رکھ کر صحیح راستے کا انتخاب کیا ہے۔
جرمن وزیر خارجہ ہییکو ماس نے جرمن ٹی وی ڈویجہ ولے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین اور ایٹمی معاہدے پر دستخط کرنے والے یورپی ملکوں نے اس بین الاقوامی معاہدے کو باقی رکھنے کے بارے میں اپنی بات کھل کر بیان کی ہے اور صحیح راستہ بھی یہی ہے کہ ایٹمی معاہدے کو باقی رکھا جائے۔
انھوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ امریکہ بین الاقوامی مسائل کے لئے کثیر جانبہ راہ حل کو کوئی اہمیت نہیں دیتا، کہا کہ امریکہ بیشتر مسائل میں اپنا الگ راگ الاپنے لگتا ہے اور اس نے بہت سے مسائل میں تن تنہا فیصلے کئے ہیں۔
امریکی صدر نے مئی میں ایٹمی معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کیا جبکہ یورپی یونین اور ایٹمی معاہدے میں شریک تمام ملکوں نے اس بین الاقوامی معاہدے کو باقی رکھنے کا اعلان کیا ہے اور اس کی حمایت کی ہے۔
ان ممالک نے حال ہی میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی پابندیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کا تحفظ کرنے کے لئے ایک الگ مالی سسٹم قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے جس پر نومبر سے عمل درآمد بھی شروع ہو جائے گا۔