امریکہ کی شام سے ناکام و نامراد واپسی
امریکا نے شام سے اپنی فوج واپس بلانے کا اعلان کردیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے شام سے اپنی فوج واپس بلانے کا اعلان کردیا جبکہ شام سے امریکی افواج کی واپسی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ اب شام سے ہمارے فوجی واپس آ رہے ہیں۔
ادھر وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارا سینڈرز کا کہنا ہے کہ فوجیوں کی واپسی کا عمل 100 دنوں میں مکمل کر لیا جائے گا، شام میں 2 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں لہٰذا امریکا شام میں کسی حد تک اپنی عسکری سرگرمیوں کو جاری رکھے گا۔
واضح رہے کہ 7 سال قبل شروع ہونے والی جنگ میں 5 لاکھ سے زائد شامیوں نے اپنی جان کی قربانی دی۔ شام پر مسلط کی گئی جنگ میں ملک کا انفراسٹرکچرمکمل طور پر تباہ ہوا، جنگ کے دوران شام میں عام شہریوں پر کیمیائی ہتھیار بھی استعمال کئے گئے لیکن شامی فوج اور عوامی رضاکار فورسز نے دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھی اور دہشت گرد گروہوں داعش اور النصرہ فرنٹ اور اسی طرح ان دہسشت گردوں کے اتحادیوں کو ذلت آمیز شکست دی اور اس شکست کے بعد امریکہ شام سے بھی ناکام اور نامراد واپس جانے پر مجبور ہوا۔