ٹیم بی ایران کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کر رہی ہے، وزیر خارجہ محمد جواد ظریف
ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے صہیونی ایجنسی موساد کی جانب مسے متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ میں ہونے والے دھماکوں میں ایران کے ملوث ہونے کے الزامات کو سختی کے ساتھ مسترد کر دیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جھوٹی ٹیم بی ایک بار پھر شور شرابا مچانے کی کوشش کر رہی ہے۔
صیہونی ذرائع ابلاغ نے دعوی کیا ہے کہ اسرائیلی انٹیلیجنس ایجنسی موساد نے متحدہ عرب امارات کی الفجیرہ بندرگاہ میں رونما ہونے والے واقعہ کے تقریبا تین ہفتے بعد امریکہ کو اس بات پر قائل کر لیا کہ وہ ایران کو اس واقعے کا اصل ذمہ دار قرار دیں۔
ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نےاپنے ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ ایران، پہلے بھی عالمی سطح پر رونما ہونے والے واقعات و حوادث اور غلط رپورٹوں کے بارے میں متنبہ کر چکا ہے لیکن اس مرتبہ موساد، متحدہ عرب امارات کی الفجیرہ بندرگاہ پر ہونے والے تخریب کاری کے واقعے کو بری طرح توڑ مروڑ کر پیش کر رہی ہے۔
بارہ مئی کو متحدہ عرب امارات کی الفجیرہ بندرگاہ پر ہونے والے دھماکوں کے بارے میں متضاد خبریں سامنے آئی تھیں۔
متحدہ عرب امارات کی حکومت نے پہلے سے ایسی کسی واقعے کو ماننے سے انکار کیا لیکن بعد میں اعلان کیا کہ اس واقعہ میں چار تیل بردار بحری جہازوں کو نقصان پہنچا ہے۔
ٹیم بی کے سرغنہ اور قومی سلامتی کے امریکی مشیر جان بولٹن نے واقعے کے فوراً بعد دعوی کیا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ فجیرہ کی بندرگاہ پر ہونے والی تخریبی کاروائی میں ایران کا ہاتھ ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے موساد کے دعوے کو سختی کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جھوٹی ٹیم بی ایک بار پھر شور شرابا مچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ٹیم بی سے ایران کے وزیر خارجہ کی مراد دنیا کے چند جنگ پسند سیاستدانوں کا ایسا ٹولہ ہے جن کے نام یا لقب انگریزی حرف بی سے شروع ہوتے ہیں۔
صہیونی حکومت کے وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو، سعودی ولی عہد بن سلمان، متحدہ عرب امارات کے ولی عہد بن زائد اور قومی سلامی کے امریکی مشیر جان بولٹن، ایران کے وزیر خارجہ کی بیان کردہ ٹیم بی کا حصہ ہیں۔