Jun ۱۴, ۲۰۱۹ ۱۸:۴۴ Asia/Tehran
  • چین کے ساتھ تجارتی جنگ بند کرنے کے لئے ٹرمپ سے سیکڑوں امریکی کمپنیوں کی اپیل

امریکہ کی چھے سو سے زائد کمپنیوں نے اپنے ملک کے صدر ٹرمپ کے نام ایک مراسلے میں مطالبہ کیا ہے کہ وہ چین کے ساتھ تجارتی جنگ سے دستبردار ہو جائیں۔

امریکہ کی چھے سو سے زائد کمپنیوں نے چین اور امریکہ کے درمیان مصنوعات و اشیا پر ڈیوٹی بڑھائے جانے سے متعلق جاری جنگ کے شدت اختیار کر جانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تاکید کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ تجارت کے شعبے میں چین کا رویہ تبدیل کرنے کے لئے ڈیوٹی بڑھائے جانے کا حربہ استعمال کرنا درست نہیں ہے۔

اس مراسلے میں یہ بھی اعلان کیا گیا ہے کہ ڈیوٹی بڑھائے جانے کی خاطر چین کو نہیں بلکہ امریکی کمپنیوں کو اس کا بھاری بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔

ٹرمپ کو یہ مراسلہ ایسی حالت میں بھیجا گیا ہے کہ امریکہ اور چین کے صدور کے درمیان جاپان کے شہر اوساکا میں اٹھائیس اور انتیس جون کو ہونے والے گروپ بیس کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات ہونے والی ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے چین کے صدر شی جین پینگ کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے میں کہا ہے کہ چین کے صدر اگر اس ملاقات کے لئے تیار نہیں ہوئے تو وہ تین سو ارب ڈالر کی چینی مصنوعات پر عائد کی جانے والی پچّیس فیصد ڈیوٹی فوری طور پر نافذ کر دیں گے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے چین کے مقابلے میں تازہ ترین موقف اختیار کرتے ہوئے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ چین کے ساتھ تجارتی جنگ مزید تیز کی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ اور چین کے درمیان اگر کوئی مفاہمت  یا سمجھوتہ نہیں ہوتا ہے تو چین سے تین سو پچّیس ارب ڈالر کی درآمد کی جانے والی مصنوعات و اشیا پر ڈیوٹی عائد کر دی جائے گی۔

ٹرمپ نے یہ دعوی بھی کیا کہ امید ہے کہ چین کے ساتھ کوئی تجارتی اور اقتصادی سمجھوتہ ہو جائے گا۔

اس سے قبل امریکہ کے سابق وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا تھا کہ چین نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ وہ واشنگٹن کی پالیسیوں کے سامنے نہیں جھکے گا۔

انھوں نے تاکید کے ساتھ کہا کہ چین کی حکومت، ٹرمپ حکومت کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

واضح رہے کہ چین امریکہ تجارتی تنازعہ ایسی حالت میں جاری ہے کہ آئی ایم ایف نے اعلان کیا ہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی جنگ اور عائد کی جانے والی ڈیوٹی سن دو ہزار بیس میں دنیا کی اقتصادی شرح نمو میں کمی واقع ہونے کا باعث بنے گی۔

 

ٹیگس