ایران، روس اور چین کی مشترکہ بحری فوجی مشقوں پر امریکہ کا ردعمل
امریکی وزارت جنگ نے کہا ہے کہ امریکہ ، ایران روس اور چین کی مشترکہ فوجی مشقوں سے آگاہ ہے اور اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
امریکی وزارت جنگ کے ترجمان نے جمعرات کو کہا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر بین الاقوامی آبی راستوں میں آزاد تجارت اور جہازرانی کی آزادی کی ضمانت کی کوشش جاری رکھے گا۔
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ووچیان نے جمعرات کو بھی کہا کہ بحیرہ عمان میں ایران ، روس اور چین کے مشترکہ فوجی مشقوں کا مقصد ان تینوں ملکوں کی بحریہ کے درمیان ہماہنگی پیدا کرنا اور نیک نیتی کا پیغام دینا ہے۔
چین کی وزارت دفاع کے ترجمان نے مزید کہا کہ چین کی بحریہ، ان چار روزہ مشقوں میں شین شینگ نامی ایک باون ڈی میزائل شکن کے ساتھ حصہ لیا ہے۔
روس کی وزارت دفاع نے بھی اعلان کیا ہے کہ ایران و چین کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں روس کے تین بحری بیڑے شرکت کر رہے ہیں۔
ایران ، روس اور چین کے درمیان پہلی بحری مشقیں، شمالی بحرہند اور بحیرہ عمان میں ہو رہی ہیں۔ جمعے کے روز شروع ہونے والی ان فوجی مشقوں کا مقصد بین الاقوامی تجارت کومحفوظ تر بنانا ہے۔