Jun ۲۹, ۲۰۲۰ ۱۹:۱۲ Asia/Tehran
  • امریکہ کی بنیاد ہی تشدد و جرائم پر استوار ہے: نسل پرستی مخالف تحریک کے رہنما

امریکہ میں نسل پرستی کے خلاف ’’سیاہ فام انسانوں کی جان بھی اہمیت رکھتی ہے‘‘ کے تحت، جاری احتجاجی تحریک کے رہنما ہاؤک نیوسم نے امریکہ میں نسل پرستی کے خلاف تحریک کو بھرپور طریقے سے جاری رکھے جانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

امریکہ میں نسل پرستی کے خلاف ’’سیاہ فام انسانوں کی جان بھی اہمیت رکھتی ہے‘‘ کے تحت جاری احتجاجی تحریک کے رہنما ہاک نیوسم نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ امریکہ میں سیاہ فام شہریوں کے خلاف تشدد اور نسل پرستی کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ امریکی حکومت نے اگر نسل پرستی مخالف مظاہرین کے مطالبات پورے نہیں کئے تو امریکی عوام اپنے ملک میں جاری سسٹم کو ہی نذر آتش کر دیں گے۔ انہوں نے اسی طرح پوری دنیا میں امریکہ کی موجودہ اور سابقہ حکومتوں کے جرائم اور مداخلت پسندانہ اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی بنیاد ہی تشدد و جرائم پر استوار ہے۔

اس دوران امریکی ریاست میشیگن کے شہر ڈیٹروئٹ میں ایک پولیس کی گاڑی سے کم سے کم چار نسل پرستی مخالف مظاہرین کے کچل جانے کی خبر ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اتوار کو شہر ڈیٹروئٹ میں پولیس اہلکاروں نے دانستہ طور پر مظاہرین پر گاڑی چڑھا دی۔ پولیس اہلکاروں نے دعوا کیا ہے کہ مظاہرین نے حملہ کر کے گاڑی کا شیشہ توڑ دیا تھا جس پر مجبور ہو کے ڈارائیور نے گاڑی کی رفتار بڑھا دی اور کچھ لوگ کچلے گئے۔

یہ بھی خبر ہے کہ امریکہ میں احتجاج کرنے والے چار مظاہرین پر نسل پرستی کی علامات اور مجسموں کو نیچے گرانے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ امریکی وزارت انصاف نے ان چاروں مظاہرین پر ساتویں امریکی صدر اینڈریو جیکسن کا مجمسہ توڑنے کی فرد جرم بھی عائد کی ہے۔

حالیہ ہفتوں کے دوران امریکی مظاہرین نے اپنے ملک میں نسل پرستی کے مظہر کئی مجسموں کو گرایا اور مسمار کیا ہے۔ امریکہ کے مختلف شہروں خاص طور سے ریاست مینے سوٹا کے شہر مینیا پولیس میں پولیس کے تشدد کے خلاف احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔امریکہ کے ایک سفید فام پولیس افسر نے پیر پچیس مئی کو شہر مینیا پولیس میں جارج فلوئیڈ نامی ایک سیاہ فام شہری کو بہیمانہ طریقے سے قتل کر دیا تھا جس پر امریکی عوام اور خاص طور سے اس ملک کے سیاہ فام شہریوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔

اس کے باوجود امریکی صدر ٹرمپ نے پولیس اور سیکورٹی اہلکاروں کو مظاہرین سے سختی سے پیش آنے اور مظاہرین کی سرکوبی کی ہدایات جاری کر دیں۔

امریکہ میں حالیہ ہفتوں کے دوران ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو زخمی اور گرفتار کیا جا چکا ہے۔

دریں اثنا ریاست فلوریڈا میں میامے کے ایک سابق پولیس افسر پر ایک سیاہ فام خاتون شہری کو حراست میں لینے کے لئے غیر قانونی طریقہ اپنائے جانے پر قانونی کاروائی کئے جانے کی خبر دی گئی ہے۔ اس پولس افسر پر الزام ہے کہ اس نے اس سیاہ فام خاتون کو گرفتار کرنے کے لئے اس کی گردن کو گھٹنے سے بری طرح سے دبایا اور اسے شدید طور پر زد و کوب کیا۔

ریاست میامے کی اٹارنی جنرل کیتھرین رینڈل نے اعلان کیا ہے کہ جورڈی مارٹل نامی میامے کے سابق پولیس افسر پر چودہ جنوری کو پیش آنے والے اس واقعے کے بارے میں دو جھوٹی رپورٹیں پیش کرنے پر دانستہ طور پر قانون کی خلاف ورزی کرنے کی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے سے متعلق جاری کی جانے والی تصاویر میں دیکھا گیا ہے کہ یہ پولیس افسر سڑک پر ایک سیاہ فام خاتون شہری کو لٹائے اس کی گردن کو اپنے گھٹنے سے دبا رہا ہے اور اس عورت کا گلا بری طرح گھٹا ہوا ہے۔

ٹیگس

کمنٹس