Feb ۰۲, ۲۰۲۶ ۱۷:۵۸ Asia/Tehran
  • منصفانہ ایٹمی سمجھوتا جلد ممکن، ناکامی کی صورت میں دفاع کے لیے تیار ہیں: ایران

ایران کے وزیر خارجہ نے سی این این کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہےکہ منصفانہ ایٹمی سمجھوتے کا حصول مختصرمدت میں ممکن ہے انہوں نے مزید کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو ہم اپنے دفاع کے لیے تیار ہیں اور اگر جنگ ہوئی تو اس کا دائرہ ایران کی سرحدوں میں محدود نہيں رہے گا۔

سحرنیوز/ایران:  ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکی چینل سی این این کے ساتھ گفتگو میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ مجھے اطمینان ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں ہم امریکہ کے ساتھ کسی سمجھوتے تک پہنچ سکتے ہيں کہا کہ ہم نے مذاکرات کے شریک کی حیثيت سے واشنگٹن کا اعتماد کھو چکے ہیں لیکن دوست ممالک کے ذریعے پیغام کا تبادلہ مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے میں آسانیاں پیدا کرے گا-

انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں توجہ ایران کی ایٹمی صلاحیتوں پر مرکوز ہونی چاہئے اور ناممکن مسائل پر بات نہیں کرنی چاہئے اور موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہئے۔

عراقچی نے کہا کہ ایک ایسے منصفانہ معاہدے کا حصول کہ جو اس بات کی ضمانت دے کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہوں گے، مختصر وقت میں بھی ممکن ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران کو توقع ہے کہ امریکی پابندیاں اٹھا لی جائیں گی اور پرامن مقاصد کے لیے یورینیم کی افزودگی جاری رکھنے کے اس کے حق کا احترام کیا جائے گا۔

ہمیں فالو کریں:  

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

انہوں نے مزید کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو ہم اپنے دفاع کے لیے تیار ہیں اور اگر جنگ ہوئی تو اس کا دائرہ ایران کی سرحدوں میں محدود نہيں رہے گا- عراقچی نے کہا کہ جنگ ہر ایک کے لیے تباہ کن ہوگی اور خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

سی این این کے نامہ نگار کے جواب میں عباس عراقچی نے کہا کہ میری رائے میں جنگ ناگزیر نہیں ہے اور اسے روکا جا سکتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ ہمیں جنگ سے پریشانی نہیں ہے، کیونکہ ہم اس کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ ہم بارہ روزہ جنگ سے پہلے سے بھی زیادہ تیار ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ جنگ کو روکنے کا بہترین طریقہ اس کے لیے تیاری کرنا ہے۔ جب میں کہتا ہوں کہ ہم جنگ کے لیے تیار ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جنگ چاہتے ہیں بلکہ ہم جنگ کو روکنا چاہتے ہیں۔ میری بنیادی تشویش غلط معلومات پر مبنی غلط اندازے لگانا اور فوجی آپریشن انجام دینا ہے۔

یہ بات ہم پر واضح ہے کہ کچھ عناصر اور جماعتیں اپنے مفادات کے لیے صدر ٹرمپ کو اس جنگ میں گھسیٹنا چاہتی ہیں۔ عراقچی نے کہا کہ بامعنی مذاکرات اعتماد پر مبنی ہونے چاہئیں اور بدقسمتی سے، ہم نے ایک مذاکراتی فریق کے طور پر امریکہ پر اعتماد کھو دیا ہے، اور اس کی وجہ واضح ہے۔ ہم نے دوہزار پندرہ میں مذاکرات کیے تھے اور سب نے جے سی پی او اے معاہدے کا جشن منایا تھا، لیکن امریکہ بغیر کسی جواز کے اس معاہدے سے نکل گیا تھا۔ اگر ہم ماضی میں زیادہ دور نہ جائيں اور صرف گذشتہ سال پر نظر کریں تو دیکھیں گے کہ اس وقت کہ جب ہمارے مذاکرات جاری تھے اسی وقت پہلے صیہونی حکومت نے اور پھر امریکہ نے ہمارے ملک پر حملہ کردیا۔ اس لیے ہمارے پاس امریکیوں کے ساتھ مذاکرات کا کوئی مثبت یا اچھا تجربہ نہیں ہے۔ حقیقی گفت و شنید تک پہنچنے کے لیے اس بے اعتمادی کو دور کرنا ہوگا۔ اب خطے کے کچھ دوست ممالک ثالث کا کردار ادا کر کے اعتماد سازی کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کام اگرچہ مشکل ہے، لیکن انجام پا رہا ہے-

 

ٹیگس