ایران کے خلاف ہتھیاروں کی پابندی پر امریکہ سے اختلاف کے بارے میں برطانیہ کا اعتراف
برطانوی وزیر خارجہ نے اپنے ملک کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں دارالعوام میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ایران کے خلاف ہتھیاروں کی پابندی کی مدت میں توسیع کے بارے میں امریکہ کے ساتھ برطانیہ کا اختلاف پایا جاتا ہے۔
ڈومینیک راب نے منگل کے روز برطانوی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں بیان دیتے ہوئے ایٹمی معاہدے کے بارے میں لندن کے موقف پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
انھوں نے کہا کہ اسنیپ بیک مکنیزم کے بارے میں برطانیہ کا نظریہ امریکی قانون دانوں سے بالکل مختلف ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران میں دہری شہریت پر قانونی کارروائی اور اس سلسلے میں ہونے والی گرفتاری پر انھوں نے ایران کے وزیر خارجہ سے گفتگو کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ برطانیہ پر ایران کے اسلامی انقلاب سے قبل کے چالیس کروڑ پونڈ کے قرضے کا مسئلہ دہری شہریت کے قیدیوں سے الگ ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسی حالت میں سامنے آیا ہے کہ برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ جرمی ہنٹ نے کہا تھا کہ برطانیہ کی حکومت کو چاہئے کہ لندن عدالت کے فیصلے کی بنیاد پر ایران کا قرضہ ادا کرے۔