بریگزٹ مذاکرات، برطانیہ کے مقابلے میں یورپی ملکوں کی صف آرائی
بریگزٹ مذاکارات کے نئے دور کے آغاز میں ہی یورپی ملکوں کے سربراہوں نے برطانیہ کے مقابلے میں سخت موقف اختیار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یورپی کونسل کے چیئرمین شارل میشل نے دو روزہ مذاکرات کے آغاز میں ہی کہا ہے کہ یورپی یونین کے ملکوں کے حکام نے برطانیہ کے ساتھ نئے تجارتی روابط میں پائے جانے والے خلا کو پر کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم انھوں نے کہا کہ برطانیہ کی علیحدگی کے سلسلے میں بھی ان ممالک نے اپنی آمادگی کو مستحکم بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم کسی ایک سمجھوتے کے حصول کے لئے متحد و آمادہ ہیں تاہم وہ سمجھوتہ ہر قیمت پر نہیں ہو سکتا۔ فرانسیسی صدر اور اسی طرح جرمن چانسلر نے اپنے الگ الگ بیانات میں بریگزٹ کے امور میں یورپی یونین کے مذاکرات کار میشل بارنیہ کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی نظر میں کسی بھی قیمت پر سمجھوتے کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
برسلز سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر سرکاری اجلاس کے دائرے میں آئندہ بریگزٹ مذاکرات سولہ نومبر کو ہونا طے پائے ہیں۔ واضح رہے کہ برطانیہ نے اکتیس جنوری دو ہزار بیس کو یورپی یونین سے علیحدگی کا باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے تاہم وہ اس سال کے آخر تک یورپی یونین کے قوانین کے تابع رہے گا۔ مذاکرات سولہ نومبر کو ہونا طے پائے ہیں۔