صیہونی وزیر اعظم کا کوئي بھی بہانہ کام نہ آيا
مالی بدعنوانی کے الزام میں نیتن یاہو کو عدالت میں حاضر ہونا ہی پڑا
صیہونی حکومت کے وزیر اعظم کے خلاف مالی بدعنوانی کے الزام میں مقدمے کی سماعت شروع ہو گئي ہے۔
روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق مقدمے کی کارروائي میں نیتن یاہو اور ان کی کابینہ کے کئي اراکین شامل ہوئے جن کا تعلق لیکوڈ پارٹی سے ہے۔ بیت المقدس کی عدالت میں جاری اس مقدمے میں نیتن یاہو پر رشوت ستانی، فریبکاری اور امانت میں خیانت کا الزام ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق مقدمے کی سماعت سے قبل نیتن یاہو نے میڈیا کے سامنے اپنے آپ کو بے قصور اور الزامات کو بے بنیاد بتاتے ہوئے دعوی کیا کہ بائيں بازو کی جماعتوں سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے انھیں اقتدار میں پہنچنے سے روکنے کے لیے اس قسم کے الزامات کو ہوا دی ہے۔
صیہونی وزیر اعظم نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ آج وہ اسرائيلی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے سربلند ہیں، وعدہ کیا کہ وہ ان الزامات کو غلط ثابت کر دیں گے اور اسرائيل کی قیادت کرتے رہیں گے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل نیتن یاہو مختلف بہانوں سے اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کی کارروائي سے بچتے رہے ہیں اور گزشتہ پیر کو بھی انھوں نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ انھیں مقدمے کی سماعت کے دوران حاضری سے چھوٹ دی جائے لیکن عدالت نے ان کی درخواست نامنظور کر دی تھی۔
نیتن یاہو نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو عدالت میں حاضر نہ ہونے کے لیے بہانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔