Oct ۲۰, ۲۰۲۲ ۲۰:۴۵ Asia/Tehran
  • لز ٹرس بھی وزیراعظم کی کرسی پر زیادہ دیرتک نہیں ٹک سکیں

برطانیہ کی وزیر اعظم لز ٹرس نے منصب سنبھالنے کے محض دوسرے مہینے میں ہی اپنے عہدے سے استعفے کا اعلان کردیا ہے۔

سحر نیوز/ دنیا: 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ، لندن، میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے لز ٹرس نے کہا کہ وہ وزارت عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے رہی ہیں۔

برطانیہ کی حکمراں جماعت کنزرویٹو پارٹی کی سربراہ لز ٹرس کو محض 6 ہفتے کے بعد معاشی پروگرام کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور پارٹی بھی منقسم نظر آئی۔ لزٹرس کے استعفے کے بعد ایک ہفتے کے اندر پارٹی قیادت کے انتخاب کا عمل مکمل کرلیا جائے گا۔

اپنے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے لز ٹرس نے تسلیم کیا کہ کنزرویٹو پارٹی کی سربراہ کی حیثیت سے وہ اپنے وعدے پورے نہیں کر سکیں اور پارٹی کی حمایت کھو بیٹھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے صورت حال کا ادراک ہے، میں اس مینڈیٹ کو پورا نہیں کر سکی جس کے لیے کنزرویٹو پارٹی نے مجھے منتخب کیا تھا۔

لز ٹرس نے کہا کہ آج صبح میں نے 1922 کمیٹی کے چیئرمین گراہم بریڈی سے ملاقات کی اور ہم اتفاق کر چکے ہیں کہ اگلے ایک ہفتے کے اندر قیادت کا انتخاب مکمل کرلیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس سے یہ بات یقینی ہوگی کہ ہم بدستور اپنے معاشی منصوبے پر عمل درآمد اور اپنے ملک کی معاشی اور قومی سلامتی کے استحکام کے راستے پر گامزن ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے برطانیہ کی سخت گیر وزیر داخلہ سوئیلا بریورمین نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد وزیر اعظم لز ٹرس کی بقا کے امکانات پر مزید شکوک پیدا ہوگئے تھے۔

ٹیگس