Mar ۱۵, ۲۰۲۴ ۱۶:۲۸ Asia/Tehran
  • طب اور صحت سے متعلق اہداف کو آگے بڑھانے میں ایران کا موثر کردار

شنگھائی تعاون تنظیم کے ہیڈ آفس کے ڈپٹی سیکریٹری نے اس تنظیم میں اسلامی جمہوریہ ایران کی رکنیت پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے شنگھائی تعاون تنظیم کے طب اور صحت سے متعلق اہداف کو آگے بڑھانے میں ایران کے کردار کو موثر قرار دیا ہے۔

سحر نیوز/ دنیا: شنگھائی تعاون تنظیم کے ہیڈ آفس کے ڈپٹی سیکریٹری جان مینگ نے قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ملکوں کے وزرائے صحت کے سترہویں اجلاس کے افتتاحی بیان میں کہا کہ اس تنظیم میں ایران کی رکنیت شنگھائی کے رکن ملکوں کے تین ارب سے زیادہ لوگوں کی صحت و سلامتی میں مدد کرسکتی ہے۔

جان مینگ نے مزید کہا کہ شنگھائی کے رکن ممالک کا تعاون ، صحت کے شعبے میں اس سربراہی اجلاس کے اہداف کے حصول میں موثر ثابت ہو سکتا ہے کہ جس میں بہت سی متعدی اور غیر متعدی بیماریوں پر قابو پانے اور پینے کے صاف اور صحت مند پانی کی فراہمی میں مدد مل سکتی ہے۔

اس سال کے سربراہی اجلاس کا موضوع صحت ، پینے کے پانی کی حفاظت اور سیوریج کو ٹھکانے لگانا ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کےنو مستقل رکن ممالک ہندوستان، چین، روس، ایران، تاجکستان، ازبکستان، قزاقستان، قرقیزستان اور پاکستان ہیں جو وزیر یا نائب وزیر کی سطح پراس سربراہی اجلاس میں موجود ہیں ۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر صحت بہرام عین اللہ نے بھی شنگھائی تعاون تنطیم کے رکن ممالک کے وزرائے صحت کے اجلاس میں شرکت کے لیے قزاقستان کا دورہ کیا۔

شنگھائی تعاون تنظیم ایک بین الاقوامی بین الحکومتی تنظیم ہے جو پندرہ جون دوہزار ایک کو شنگھائی میں قزاقستان، چین، قرقیزستان، روس، تاجیکستان اور ازبکستان کے توسط سے قائم کی گئی تھی- اسلامی جمہوریہ ایران بھی اب اس تنظیم کا مستقل رکن بن گیا ہے۔

ٹیگس