اپسٹین کیس کے تازہ دستاویزات سے ٹرمپ کی 3000 بار موجودگی کا انکشاف
جیفری اپسٹین کی جنسی بدعنوانی اور اسمگلنگ کے کیس میں نئے انکشافات سے ثابت ہو رہا ہے کہ امریکی صدر کا ان بدعنوانیوں میں کردار، ان کے دعووں کے برخلاف، بہت زیادہ رہ چکا ہے۔
سحرنیوز/دنیا: جیفری اپسٹین کیس میں سامنے آنے والے دستاویزات سے ثابت ہوگیا ہے کہ ٹرمپ کا یہ دعوی جھوٹ تھا کہ انہوں نے سن 2004 کے بعد مذکورہ جنسی مجرم سے رابطہ منقطع کردیا تھا۔
ان دستاویزات میں ڈانلڈ ٹرمپ کا نام 3000 بار سے زیادہ لیا گیا ہے۔
امریکی وزارت قانون نے کانگریس کی جانب سے دی گئی ڈیڈلائن کے ایک مہینے بعد، ان نئے دستاویزات کو جاری کیا ہے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
قابل ذکر ہے کہ جمعے کے روز 30 لاکھ سے زیادہ اس سلسلے کے شواہد جاری ہوئے ہیں جن میں 2000 ویڈیو اور 1 لاکھ 80 ہزار تصویریں بھی شامل ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ یہ جاری ہونے والے دستاویزات کا آخری مرحلہ ہوگا۔
مذکورہ دستاویزات کے مطابق ٹرمپ کے دعوے کے برخلاف اپسٹین سے ان کے تعلقات سن 2012 میں بھی جاری رہے چکے ہیں۔
امریکی صدر نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں ان کے بقول وہ محترم شخصیات بھی متاثر ہوسکتی ہیں جن کا ایپسٹین سے کوئی تعلق نہیں تھا۔