• ایٹمی معاہدے کی حمایت پر موگرینی کی تاکید

یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے ایک بار پھر مشترکہ جامع ایکشن پلان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

فیڈریکا موگرینی نے منگل کے دن یورپی پارلیمان میں تاکید کی کہ یورپی یونین نے ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی مذاکرات کی حمایت کی ہے اور وہ مشترکہ جامع ایکشن پلان کی حامی ہے۔ موگرینی نے اس سے قبل بھی اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان کا تعلق عالمی برادری کے ساتھ ہے کہا تھا کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان دو طرفہ معاہدہ نہیں ہے جس میں تبدیلی لائی جاسکتی ہو۔

موگرینی کے یہ  بیانات وائٹ ہاؤس کے ان مواقف اور اقدامات پر رد عمل ہے جو اس نے مشترکہ جامع ایکشن پلان کے خلاف انجام دیئے ہیں اور جن میں ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی میں امریکی نمائندے کی غیر معمولی لابنگ کی وجہ سے شدت پیدا ہوگئی ہے۔

اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل نمائندہ نیکی ہیلی (Nikki Haley) نے دعوی کیا ہے کہ مشترکہ جامع ایکشن  پلان ایک ناقص اور محدود معاہدہ ہے اور اس کے بارے میں دوبارہ مذاکرات ہونے چاہئیں۔

اسی سے ملتے جلتے بیانات منگل کے دن صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی ارجنٹائن میں دیئے تھے اور مشترکہ جامع ایکشن پلان میں اصلاحات اور بصورت امکان اس کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ حکومت، ایران کے ساتھ طے  پانے والے ایٹمی معاہدے کو پھاڑنے کے بجائے مشترکہ جامع ایکشن پلان کے تناظر میں ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے توسط سے ایران پر شدید نگرانی مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ فوجی تنصیبات تک رسائی بھی ان اقدامات میں سے ایک ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ مشترکہ جامع ایکشن پلان میں درج اس شق کو بھی ختم کرنے کے لئے کوشاں ہے جس کے تحت  ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق بعض پابندیاں دس سال کے بعد ختم ہونے کی بات کی گئی ہے۔ البتہ یہ بات بحث طلب ہے کہ ٹرمپ حکومت کس حد تک ایران کے سلسلے میں نئی اسٹریٹیجیز کو عملی جامہ پہنا سکتی ہے۔ بعض مبصرین اسے ٹرمپ کے عہد صدارت میں امریکہ کی نئی مہم جوئی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ ان مبصرین نے یہ مفروضہ پیش کیا ہےکہ امریکہ اس وقت ایران کا ردعمل دیکھنا چاہتا ہے۔ امریکہ نے ایران مخالف یہ ماحول ایران کی میزائلی دفاعی صلاحیت کے بہانے سے پیدا کیا ہے۔ امریکہ اس موضوع کو اٹھا کر اپنے بے بنیاد دعووں کے ذریعے ایک بار پھر ایرانو فوبیا پھیلانا چاہتا ہے۔

بین الاقوامی سلامتی اور ایٹمی امور میں امریکہ کے سابق اسسٹنٹ سیکرٹری تھامس کنٹری مین  (Thomas Countryman) نے  خبردار کیا ہے کہ تہران کے خلاف بے بنیاد الزامات لگانے سے امریکہ بین الاقوامی تنہائی کا شکار ہوجائےگا۔ انہوں نے سی این این کی ویب سائٹ پر ایک مقالہ شائع کیا ہے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اقوام متحدہ میں امریکہ کی نمائندہ نیکی ہیلی پر حقائق پر توجہ نہیں دینے کا الزام لگایا ہے اور وائٹ ہاؤس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مشترکہ جامع ایکشن پلان کے سلسلے میں بہانے تراشنے کے بجائے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی رپورٹوں پر توجہ دے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ تعلقات کی اسٹریٹیجک کونسل کے سربراہ کمال خرازی نے بھی منگل کے دن آسٹریلیا کے سابق وزیر خارجہ گیریتھ ایونز (Gareth Evans)  کے ساتھ مشترکہ  پریس کانفرنس میں کہا کہ اگر امریکہ مشترکہ جامع ایکشن پلان سے باہر نکلتا ہے تو اسلامی جمہوریہ ایران بھی ہر طرح کے سناریو کےلئے تیار ہے اور اس نے ہر طرح کے آپشن کے لئے مختلف منصوبے تیار کر لئے ہیں۔

Sep ۱۳, ۲۰۱۷ ۱۲:۳۹ UTC
کمنٹس