• یمن میں الحدیدہ بندرگاہ کھولنے کی ضرورت پر اقوام متحدہ کی تاکید

اقوام متحدہ نے یمن میں الحدیدہ بندرگاہ کھولے جانے کے لئے سعودی عرب کی قیادت والے عرب اتحاد کی پیشگی شرط کو مسترد کردیا ہے۔

کسی بھی ملک کے عوام کو اس وقت یمن کے عوام جیسی صورتحال کا سامنا نہیں ہے ۔ کوئی بھی ایسا بحران نہیں ہے جس کا سامنا ان کو نہ ہوا ہو۔ سعودی جارحین کی بمباری روزانہ جاری ہے۔ یمن میں زندگی کی امید کی رمق ختم ہو رہی ہے۔ یا تو سعودیوں کی روزانہ کی بمباری سے یمنی عوام کی جانیں جا رہی ہیں یا پھر بھوک، وبا، اور دیگر بیماریوں کے سبب۔

یمن میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں سے متعلق صحیح اعداد وشمار کا پتہ نہیں لگائی جاسکتا ہے لیکن اگر اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کو بھی مان لیا جائے تو آٹھ ہزار سے زائد یمنی جاں بحق اور دسیوں ہزار دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ مرنے والوں ہر سن وسال کے افراد ہیں۔ بچوں سے لے کر بوڑھوں تک ، لڑکی ہو یا لڑکا، عورت ہو یا مرد۔

ہیضہ جیسی بیماری بھی یمن میں بری طرح پھیلی ہوئی ہے۔ عالمی ریڈ کراس کمیٹی کے اعلان کے مطابق ہر دن سات ہزار افراد وبا کی بیماری میں مبتلا ہو رہے ہیں اور روزانہ سینکڑوں افراد اس بیماری کے نتیجے میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ جنگ اور وبا کے ساتھ ہی بھوک مری بھی یمن میں لوگوں کی جانیں جانے کا باعث بنی ہے۔ 

ایسی فضا میں کہ جہاں صرف موت کی بو ہی مشام تک پہنچ رہی ہے، وہ چیز کہ جس نے یمن کے بحران کو مزید بدتر حالات سے دوچار کردیا ہے، جنگ کے ساتھ ساتھ اس ملک کا ہمہ جانبہ محاصرہ ہے۔ یمن کا زمینی اور ہوائی محاصرہ اس بات کا باعث بنا ہے کہ اس ملک کے لئے انسان دوستانہ امداد بھیجنے کا امکان نہیں ہے۔ اب تک بارہا سنا جا چکا ہے کہ گزشتہ عشروں میں سب سے بڑا انسانی المیہ یمن میں رونما ہونے کا خطرہ ہے۔ لیکن سعودی حکومت مغربی ملکوں خاص طور پر امریکہ کی حمایت کے سبب ان انتباہات پر توجہ دینے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔ اسی تناظر میں ، انسان دوستانہ امور میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے مشیر "مارک لوکوک" نے گذشتہ ہفتے کہا ہے کہ اگر انسان دوستانہ امدادیں یمن نہیں پہنچتی ہیں تو حالیہ عشروں کا سب سے بڑا قحط اور انسانی المیہ رونما ہوجائے گا۔ 

ان حالات میں اقوام متحدہ نے آل سعود سے الحدیدہ بندرگاہ کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن آل سعود نے آنے والے جہازوں اور کشتیوں کا مزید سختی سے جائزہ لئے جانے سے مشروط کردیا ہے۔ الحدیدہ بندرگاہ ، یمن میں انسان دوستانہ امداد داخل ہونے کا اصلی اور اہم ترین راستہ ہے لیکن سعودی حکومت کوئی بھی ٹھوس ثبوت پیش کئے بغیر اس بات کی مدعی ہے کہ الحدیدہ بندرگاہ کے کھولے جانے سے، یمن میں ہتھیاروں کی اسمگلنگ میں اضافہ ہوگا۔

درحقیقت آل سعود کی یہ ظاہری دلیل ہی الحدیدہ کا محاصرہ ختم کرنے کی مخالفت کا سبب ہے۔ اس مخالفت کی اصلی وجہ یہ ہے کہ سعودی حکومت یہ تصور کرتی ہے کہ الحدیدہ بندرگاہ کے بند رہنے سے وہ تحریک انصاراللہ اور اس کے اتحادیوں پر صنعا میں اپنے مطالبات مسلط کرسکتا اور ان کو سازباز پر مجبور کرسکتا ہے۔ درحقیقت سعودی حکومت الحدیدہ کا محاصرہ ختم کرنے کی مخالفت کرکے اپنے سیاسی اہداف کے درپے ہے اسی لئے اقوام متحدہ نے اس مسئلے کو درک کرتے ہوئے الحدیدہ کو کھولے جانے کی سعودیوں کی پیشگی شرط کو مسترد کردیا ہے۔  

اسی سلسلے میں یمن میں اقوام متحدہ کے انسان دوستانہ امور کے کوآرڈینیٹر " جیمی مک گلولدریک" نے کہا ہے کہ یمن میں قتل عام اور بحرانی صورتحال اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ اس علاقے کا مزید سختی سے جائزہ لینے کے لئےنئی تدابیر اختیار کی جائیں ہمیں اس بات کا انتظار کرنا پڑے گا کہ اور دیکھنا پڑے گا کہ کیا اقوام متحدہ کا ادارہ، الحدیدہ بندرگاہ کھولنے کے لئے آل سعود پر اپنا دباؤ بڑھانے میں کامیاب ہو سکتا ہے یا نہیں- 

واضح رہے کہ سعودی عرب امریکا اور اس کے اتحادیوں نے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے ذریعے شام میں مارچ دوہزار گیارہ سے بحران پیدا کر رکھا ہے جس کا مقصد علاقے میں اسرائیل کی سیکورٹی کو یقینی بنانا تھا لیکن شامی فوج نے استقامتی فورس کی مدد سے پچھلے چند مہینوں کے دوران دہشت گردوں پر کاری ضرب لگائی ہے۔

Nov ۱۵, ۲۰۱۷ ۱۳:۳۱ UTC
کمنٹس