• چینی ٹکنالوجی کی پیشرفت روکنے کے لئے امریکی کوشش

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں قدم رکھنےکے وقت سے ہی چین کو، جو دنیا کی دوسری بڑی اقتصادی طاقت شمار ہوتا ہے، مختلف جہات سے چیلنجوں سے دوچار کر رکھا ہے۔

اس وقت امریکہ اور چین کے درمیان اختلافات سیاسی، اقتصادی ، فوجی اور سیکورٹی اور اسٹریٹیجک پہلوؤں کے حامل ہیں- واشنگٹن چین کو اپنا اصلی حریف اور طاقت پسند ملک قرار دیتا، اور چین کی پالیسیوں اور اقدامات سے مقابلے پر تاکید کرتا ہے- 

اس کے بالمقابل چین بھی عالمی مسائل کے تعلق سے امریکی صدر ٹرمپ کی یکطرفہ پالیسیوں کے اصلی مخالفین میں سے ہے اور اس نے اقتصادی حمایت پر مبنی ٹرمپ کے تجارتی نقطہ نظرکو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے- ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی، چین کے ساتھ وسیع تجارتی جنگ وجود میں آنے کا باعث بنی ہے- اگرچہ ارجنٹائن میں گروپ جی ٹوئنٹی کے سربراہی اجلاس کے موقع پر امریکہ اور چین کے حکام نے ملاقات کے بعد، دونوں ملکوں کے درمیان تین مہینے کی تجارتی جنگ بند کرنے پر اتفاق کیا تھا تاہم حالیہ دنوں میں رونما ہونے والے ایک اہم واقعے سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ واشنگٹن نہ صرف بیجنگ کے ساتھ مصالحت نہیں چاہتا بلکہ چین کی ٹکنالوجی کی ترقی و پیشرف بھی روکنے کے درپے ہے-

 اس سلسلے میں ایک اہم واقعہ جو حال ہی میں رونما ہوا یہ ہے کہ کینیڈا کی پولیس نے چین کی نامور ٹیلی کام کمپنی 'ہوائی'  Huawei  کی چیف فنانشل آفیسر "مینگ وینزہو"  Meng Wanzhou کو ایران کے خلاف عائد کی گئی امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کے بہانے سے گرفتار کرلیا ہے- کینیڈا کی وزارت انصاف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وینکور شہر سے مینگ وینزہو کو حراست میں لیا گیا اور امریکا نے تحویل مجرمان کے معاہدے کے تحت ان کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔ مینگ ، چیف فنانشل آفیسر ہونے کے علاوہ ہوائی کمپنی کے بانی کی بیٹی بھی ہیں اور بعض شواہد کی بنا پر وہ ہوائی کپمنی میں، مستقبل میں اپنے باپ کی جگہ لیں گی-  چین نے مینگ وینزہو کی گرفتاری پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور زور دیا ہے کہ امریکا اور کینیڈا انہیں حراست میں لیے جانے پر وضاحت پیش کریں۔ ہوائی کمپنی نے مینگ وینزہو کی گرفتاری پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ وہ ایگزیکٹو کی جانب سے کسی بھی قسم کے غلط کاموں میں ملوث ہونے کے حوالے سے لاعلم ہیں۔

اسی سلسلے میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ہوائی کمپنی کی اعلی عہدیدار مینگ وینزہو کی کینڈا میں گرفتاری، امریکہ کی جانب سے اپنے داخلی قوانین کو عالمی قانون بناکر اسے دوسرے ملکوں پر تھوپنا ہے- اور امریکہ کے اس اقدام پر دنیا کے بیشتر ملکوں کے عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے- کینڈا میں وینزہو کی گرفتاری کی واشنگٹن نے حمایت کی ہے۔ اس سلسلے میں امریکہ کی قومی تجارتی کونسل کے سربراہ لاری کڈلاؤ Larry Kudlow  نے کہا ہے کہ ہم نے مدتوں قبل ہی ہوائی کمپنی کو ایران کے خلاف عائد کی گئی امریکی پابندیوں کی خلاف ورزیوں کی بابت خبردار کردیا تھا- 

اگرچہ اس اقدام کے لئے امریکا کا یہ بہانہ، چین کی اس مواصلاتی کمپنی  Huawei کے توسط سے ایران کے خلاف عائد کی گئی پابندیوں کی خلاف ورزی  ہے تاہم حقیقت واقعہ، ان مسائل سے کہیں بالاتر ہے- اس وقت  ٹیلی کام کمپنی ہوائی  Huawei، موبائل اورٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں عالمی سطح پر بہت شہرت کی حامل ہے اور عالمی سطح پر اس کو مقبولیت حاصل ہے ایسے میں امریکہ اس کمپنی پر ٹکنالوجی کو چوری کرنے کا الزام لگا رہا ہے- 

چینیوں کے نقطہ نگاہ سے امریکہ کی جانب سے ہوائی کمپنی کی جاسوسی کا مسئلہ اٹھائے جانے کی اہم وجہ ، امریکی کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ اور امریکی منڈی میں ہوائی کمپنی کی مصنوعات کی مقبولیت اور اس کے اثر و رسوخ پر روک لگانا ہے۔ ہوائی کمپنی کی مصنوعات، عالمی مارکیٹوں میں چینیوں کی اقتصادی طاقت کی علامت ہیں۔ 

اس وقت امریکہ ، اگرچہ ایران کے خلاف عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کا بہانہ بنا رہاہے، تاہم حقیقت میں امریکہ میں ہوائی کمپنی کی مقبولیت اور سرگرمیوں کو محدود کرنے نیز اس کمپنی کے خلاف اپنے یورپی اتحادیوں کو اکسانے کے مقصد سے، چین کی معروف ٹیلی کام کمپنی’ہوائی‘ کے بانی کی بیٹی واعلیٰ عہدیدار مینگ وانزھو کو امریکہ کے حوالے کئے جانے کا مطالبہ کر رہا ہے- اس بناء پر کہا جاسکتا ہے کہ اس مسئلے کے عملی ہونے کی صورت میں چین کی حکومت شدید ردعمل ظاہر کرے گی اور دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں مزید شدت آئے گی-       

ٹیگس

Dec ۰۸, ۲۰۱۸ ۱۷:۰۱ Asia/Tehran
کمنٹس