• ایران کی مسلح افواج ملکی سرحدوں کے دفاع کی پوری توانائی رکھتی ہیں: وزیر خارجہ محمد جواد ظریف

وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ایران کے بارے میں مغرب کی روش کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج ملکی سرحدوں کے دفاع کی پوری توانائی رکھتی ہیں۔

اے بی سی ٹیلی ویژن سے انٹرویو میں وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے علاقائی اور عالمی مسائل کے بارے میں ایران کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے بارے میں مغرب کی پالیسیاں درست نہیں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ایران کے سلسلے میں مغرب کی روش ہمیشہ غلط رہی ہے ۔

وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ جب صدام کی حکومت نے ایران پر مسلط کردہ جنگ میں کیمیائی اسلحے استعمال کئے تو مغرب نے اس کی حمایت کی اور جب اسی صدام نے کویت پر حملہ کیا تو اس کو دشمن قرار دیا گیا ۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے یہ بات قابل قبول نہیں ہے کہ اس کے خلاف طاقت سے کام لینے کی کوشش کی جائے اور کوئی اس پر توجہ نہ دے ۔

انھوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا ایران کی پر امن ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے اور اگر یہ حملہ ہوجاتا تو تابکاری ماحولیات کو تباہ کر دیتی۔
انھوں نے کہا کہ میں آسٹریلیا میں ایسی کسی ہستی کو نہیں جانتا ہوں جس نے اس قسم کے اشتعال انگیز اقدامات پر اعتراض کیا ہو لیکن حال ہی میں جب ہم نے میزائلی تجربات کئے تو اس کو اشتعال انگیز قرار دیا گیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ روش ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دوسروں پر الزامات لگانے کی روش کے بجائے گفتگو اور مذاکرات کا راستہ اپنائیں اور مذاکرات میں صداقت سے کام لیں ۔

انھوں نے کہا کہ مذاکرات میں ہمیں یہ بات مد نظر رکھنی چاہئے کہ دنیا کی کوئی بھی طاقت دوسروں کے لئے احکامات صادر کرنے اور نصیحت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں تمام ملکوں کے مفادات مشترک ہیں اس لئے کہ ہم ایسی دنیا میں رہتے ہیں جس میں سبھی ممالک ایک دوسرے سے متصل ہیں، بنابریں ہمارے مفادات، مسائل اور خطرات سبھی کچھ مشترک ہیں ۔
انھوں نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی ایران اور آسٹریلیا دونوں کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔

انھوں نے کہا کہ مشرق وسطی میں ایران دہشت گردی سے بہت حدتک محفوظ ہے لیکن ہمارے پڑوسی ملکوں میں بحران اور افراتفری پائی جاتی ہے اور یہ صورتحال ہمیں ایک دوسرے سے متصل کردیتی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کو خطے اور دنیا کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ شام سمیت خطے کے تمام بحرانوں کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔
ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے سعودی عرب کی جانب سے خطے میں سرگرم دہشت گردوں کی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران خطے میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ شام کی حکومت کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار شام کے عوام کو ملنا چاہئے۔
انھوں نے خطے میں ممکنہ کشیدگی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایران تحمل اور برداشت پر یقین رکھتا ہے لیکن اس کی مسلح افواج ملک کے دفاع پر پوری طرح قادر ہیں اور انہیں سبق دے سکتی ہیں جو ایران کے خلاف جارحیت کرنا چاہیں ۔

Mar ۱۸, ۲۰۱۶ ۱۴:۵۳ Asia/Tehran
کمنٹس