اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے کے نفاذ پر امریکہ نے غیرذمہ دارای کا مظاہرہ کیا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے گزشتہ روز نیو یارک میں اقوام متحدہ کی سالانہ اعلی سطحی سیاسی نشست کے موقع پر سی این این ٹی وی چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے مغربی طاقتوں کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کے نفاذ پر اپنے تمام وعدوں پر دیانتداری کے ساتھ عمل کیا ہے مگر امریکہ نے اپنے حصے کا کردار پوری طرح ادا نہیں کیا۔

اس موقع پر انہوں نے چار امریکی سینیٹروں کی جانب سے ایران پر جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کے الزام لگانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ادارے کی سات رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے جوہری معاہدے کے نفاذ سے اب تک اپنے تمام وعدوں بالکل عمل کیا مگر بد قسمتی سے امریکہ اپنے وعدوں پر قائم نہیں ہے۔ محمد جواد ظریف نے ایران کی جانب سے شام کی حمایت کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شام، افغانستان، عراق اور دوسرے علاقائی ممالک کے حوالے سے ہماری پالیسی ایک ہی ہے اور ہم دہشتگردی اورانتہاپسندی کے مخالف ہیں اور جو بھی دہشتگردی کے خلاف ہیں ہم نے ان کی حمایت کی۔

ایران کے وزیر خارجہ نے یمنی عوام کی حمایت اور یمن پر جارحیت کی مخالفت کرتے ہوئے فائربندی کے نفاذ، انسانی امداد، یمنی عوام کے درمیان مذاکرات کے انعقاد اور اس ملک کی قوم کی درخواست کے مطابق ایک حکومت کی تشکیل کی تجویز کو پیش کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا کہ کسی بھی مسئلے کا فوجی حل نہیں ہے۔

Jul ۱۷, ۲۰۱۷ ۰۸:۱۱ UTC
کمنٹس