Jan ۱۶, ۲۰۱۸ ۱۷:۳۰ Asia/Tehran
  • تہران اجلاس میں مختلف مسلم ملکوں کے اسپیکروں کا خطاب

تہران میں او آئی سی کے رکن ملکوں کے پارلیمانی اسپیکروں کا اجلاس جاری ہے جس سے مختلف ملکوں کے پارلیمانی اسپیکروں نے خطاب کیا ہے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے اسلامی ملکوں کے پارلیمانی اسپیکروں کے تیرہویں اجلاس میں کہا کہ دہشت گردی کی وجہ سے بڑی طاقتیں اسلامی ملکوں کے ذخائر لوٹ رہی ہیں اس لئے اغیار کا مقابلہ کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہونا چاہئے-

پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر نے کہا کہ بیت المقدس کو صیہونی حکومت کا دارالحکومت قرار دینے کا فیصلہ سوچا سمجھا فیصلہ ہے جس کا مقصد عالم اسلام کو کمزور کرنا ہے-

انہوں نے کہا کہ بیت المقدس فلسطین کا دارالحکومت ہے اور اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے-

انہوں نے افریقی عوام کی شان میں ڈونلڈ ٹرمپ کے توہین آمیز بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی ملکوں کی انٹرپارلیمنٹری یونین کے تیرہویں اجلاس کے اختتامی بیان میں ٹرمپ کے اس بیان کی مذمت میں ایک شق شامل کئے جانے کی ضرورت ہے-

  پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکرسردارایازصادق، سینیٹرسلیم ضیاء 
 سحراردو ٹی وی کے ڈائریکٹر اور رپورٹرکے ہمراہ 

 

  مہدی ہنردوست - پاکستان میں ایران کے سفیر
چیئرمین سینٹ رضا ربانی
 آصف علی خان درانی - ایران میں پاکستان کے سفیر
 سحر اردو ٹی وی کے ڈائریکٹر حمید رضا قربانی
رپورٹر سید حسام الدین مھاجری  

 

لبنان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے بھی اس اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی دھمکیوں اور خطرات کا جواب دینے کے لئے سبھی اسلامی ملکوں کو واشنگٹن میں اپنے سفارتخانے بند کر دینے چاہئیں-

لبنان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ غاصب صیہونی حکومت نے فسطین کو ایک بڑے جیل خانے میں تبدیل کر دیا ہے، کہا کہ اس غاصبانہ قبضے کے خلاف اسلامی ملکوں کو اٹھ کھڑا ہونا چـاہئے-

انڈونیشیا کے اسپیکر فضلی زون نے بھی بعض ملکوں منجملہ میانمار میں مسلمانوں کی حالت زار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صرف ایک مہینے میں میانمار میں چھے ہزار سے زائد مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا-

ان کا کہنا تھا کہ لاکھوں کی تعداد میں روہنگیا مسلمان میانمار سے بنگہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے-

انڈونیشیا کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ میانمار میں مسلمانوں کا انتہائی سفاکانہ طریقے سے قتل عام کیا گیا اور خواتین کی عصمت دری کی گئی- انہوں نے اسلامی ملکوں کے درمیان اتحاد پر زور دیا اور کہا کہ پائیدار امن و صلح، اسلامی ملکوں کی مشترکہ کامیابی ہے-

عمان کی پارلیمنٹ کے اسپیر خالد ہلال ناصر  المعولی نے بھی   اجلاس میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کئے جانے سے فلسطین میں امن کا عمل پوری طرح ختم ہو جائے گا، کہا کہ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب فلسطین کی اسلامی حکومت تشکیل پانی چاہئے تھی-

عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر سلیم الجبوری نے بھی اجلاس سے خطاب کے دوران کہا کہ بیت المقدس عالم اسلام کا اہم ترین معاملہ ہے-

انہوں نے کہا کہ فلسطین کے خلاف ٹرمپ کے حالیہ فیصلے کا مقابلہ کرنے کے لئے ٹھوس اقدام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ فلسطینیوں کے پامال شدہ حقوق کی بازیابی ہو سکے-

قطر کی پارلیمنٹ کے اسپیکر احمد بن عبداللہ بن زید آل محمود نے بھی او آئی سی کے رکن ملکوں کے پارلیمانی سربراہی اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کی استقامت اور جد وجہد کی حمایت کی جانی چاہئے اور سبھی ملکوں کو مسئلہ فلسطین میں متحد ہونا چاہئے-

ترکی کے اسپیکر اسماعیل قہرمان نے فلسطین کے بارے میں قرارداد کو سلامتی کونسل میں امریکا کے ذریعے ویٹو کردیئے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس بات سے یہ ثابت ہو گیا کہ اقوام متحدہ عالمی مسائل کو حل نہیں کرسکتی بنابرین اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے ڈھانچے میں تبدیلی ناگزیر ہے-

قابل ذکر ہے کہ او آئی سی کے رکن ملکوں کا تیرہواں پارلیمانی سربراہی اجلاس منگل کو تہران میں شروع ہوا جو بدھ کی شام تک جاری رہے گا-   

 

ٹیگس

کمنٹس