• امریکی خودسرانہ اقدامات کو روکنے کا مطالبہ

اسلامی جمہوریہ ایران نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے قانونی روایات کو نظرانداز کئے جانے کے ردعمل میں تعمیری مؤقف اپنائیں.

اقوام متحدہ میں ایران کے سبکدوش ہونے والے مستقل مندوب غلام علی خوشرو نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس  کےساتھ ہونے والی الوداعی ملاقات میں کہا کہ ایران جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے بعد دنیا میں قوانین اور عالمی معاہدوں کو شدید نقصان پہنچا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ  اقوام متحدہ کے دیگر رکن ممالک کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنے کی وجہ سے دھمکیاں دے رہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ تعاون نہ کریں. انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو ایسے یکطرفہ اور ماوارائے قانون اقدامات کو روکنا ہوگا.

 

یمن کے خلاف سعودی جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے غلام علی خوشرو نے کہا کہ یمنی عوام پر سعودی عرب کی مسلط کردہ جنگ ایک انسانی المیہ ہے. ایران اس جنگ کے فوری خاتمہ کے مطالبے کے ساتھ تمام فریقین کے درمیان امن مذاکرات کے آغاز کا خواہاں ہے.

 

اس ملاقات میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے عالمی مسائل کے حل کے لئے اجتماعی تعاون اور سفارتکاری کی کوششوں پر زور دیتے ہوئےاس امید کا اظہار کیا کہ یمن کی جنگ کا فوری خاتمہ ہوگا تا کہ انسانی بحران میں مزید اضافے کو روکا جاسکے.

 

فریقین نے اس ملاقات میں تازہ ترین علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا.

اس ملاقات میں سبکدوش ہونے والے ایرانی مندوب نے انتونیو گوتریس کو ایک ایسا قالین تحفے میں پیش کیا جس پر سربراہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی تصویر بنی ہوئی ہے.

 

Nov ۱۷, ۲۰۱۸ ۱۰:۵۹ Asia/Tehran
کمنٹس