Jun ۰۳, ۲۰۱۹ ۱۵:۰۴ Asia/Tehran
  •   امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں ہو سکتے، ایرانی صدر کا اعلان  ( تفصیلی خبر)

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے ایران کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات کے لئے واشنگٹن کی آمادگی کے تعلق سے امریکی وزیر خارجہ کے بیان کے جواب میں کہا ہے کہ جس نے مذاکرات کی میز کو ترک اور معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اسے چاہئے کہ وہ پہلی والی پوزیشن پر واپس لوٹے۔

صدرمملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے ایران کی میڈیکل یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور ڈاکٹروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا جب تک اس بات کا اعتراف اور احساس نہیں کرلیتا  کہ اس نے جس راستے کا انتخاب کیا ہے کہ وہ غلط ہے اس وقت تک ایران واشنگٹن کے ساتھ  کوئی بات چیت نہیں کرے گا-

یاد رہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے اس سے پہلے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لئے بارہ شرطیں عائد کی تھیں لیکن انہوں نے اتوار کے روز سوئیزرلینڈ میں اپنے بیان اور موقف سے پسپائی اختیار کرتے ہوئے دعوی کیا کہ امریکا ایران کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات کے لئے تیار ہے تاہم انہوں نے یہ دعوی کیا کہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی جاری رہے گی-

امریکی صدر ٹرمپ نے بھی گذشتہ ہفتے اپنے دورہ جاپان میں رائے عامہ کو دھوکہ دینے والے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر ایرانی حکام مذاکرات کے لئے تیار ہوں تو ہم بھی ان سے بات چیت کے لئے آمادہ ہیں-

اس درمیان اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے بھی امریکی نیوز چینل اے بی سی کے اینکر سے اپنے انٹرویو میں امریکی وزیرخارجہ کے بیان کے جواب میں کہا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کا مطلب ایران پر دباؤ ڈالنے کے عمل کا جاری رہنا ہے- وزیر‍ خارجہ ڈاکٹر ظریف نے کہا کہ ایران کے خلاف پابندیاں درحقیقت اقتصادی دہشت گردی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی پابندیوں نے ایران کے عام شہریوں کو نشانہ بنا رکھا ہے۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ باوجود اس کے کہ غذائی اشیا اور دواؤں کو پابندیوں سے معاف رکھا گیا ہے لیکن غذائی اشیا اور دواؤں سے مربوط مالی ٹرانزیکشن پر پابندی جوں کی توں باقی ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم  کے ارکان ایران کے ساتھ مذاکرات کی باتیں ایک ایسے وقت کر رہے ہیں جب امریکا نے گذشتہ برس آٹھ مئی کو بین الاقوامی ایٹمی معاہدے سے غیر قانونی طریقے سے نکلنے اور ایران کے خلاف پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کا اعلان کر دیا تھا-

واشنگٹن نے اعلان کیا ہے کہ پابندیوں اور زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کا مقصد تہران کے ساتھ ایک نئے سمجھوتے تک پہنچنا ہے کہ جس میں امریکا سے مربوط سبھی مسائل شامل ہوں-

امریکا کے اس طرح کے متضاد بیانات کے دوران رہبر انقلاب اسلامی نے گذشتہ ہفتے بدھ کو یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور دانشوروں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ مذاکرات کی باتیں کرنا امریکا کا ایک حربہ ہے جس کے ذریعے وہ ایران پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے-

رہبرانقلاب اسلامی نے ایک بار پھر تاکید کے ساتھ فرمایا کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی طرح کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ آپ نے فرمایا کہ جیسا پہلے بھی کہا جا چکا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور دوسرے اس کے نقصانات بھی ہیں-   

 

ٹیگس

کمنٹس