Sep ۱۱, ۲۰۱۹ ۱۱:۰۸ Asia/Tehran
  • جان بولٹن کی برطرفی امریکہ کا اندرونی معاملہ ہے: ایران

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے کہا ہے کہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر کی برطرفی امریکہ کا اندرونی معاملہ ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب مجید تخت روانچی نے کہا ہے کہ  امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن اپنی انتہا پسندی کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے اور بارہا امریکی صدر ٹرمپ نے واضح طور پر کہا تھا کہ جان بولٹن  سخت گیر لہجے  کے حامل انتہا پسند ہیں۔

واضح رہے کہ کل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کو عہدے سے برطرف کردیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے ٹوئیٹر بیان میں کہا ہے کہ  وائٹ ہاؤس میں اب جان بولٹن کی ضرورت نہیں۔ امریکی صدر نے ٹوئیٹرمیں لکھا کہ متعدد معاملات میں مجھے جان بولٹن کی تجاویز سے شدید اختلاف تھا، انہیں بتا دیا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں ان کی مزید ضرورت نہیں ہے۔ امریکی صدر نے لکھا کہ قومی سلامتی کے نئے مشیر کا اعلان آئندہ ہفتے کروں گا۔

یاد رہے کہ 23 مارچ 2018 کو  امریکی صدر نے جان بولٹن کو مشیر قومی سلامتی امور کی ذمہ داریاں سونپی تھیں۔جان بولٹن اس سے قبل اقوام متحدہ میں امریکی سفیر بھی رہے تھے۔ جان بولٹن  ایران اور شمالی کوریا کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے حامی تھے اور جارحانہ اور سخت گیر لہجے کے حامل قدامت  پسند کے طور پر شہرت رکھتے تھے۔

ٹیگس

کمنٹس