• سعودی فوجی ٹھکانوں پر یمنی فوج کا میزائل حملہ

یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے سعودی عرب کی جارحیت کے جواب میں اس ملک کے جنوبی علاقے نجران میں فوجی ٹھکانے کو مقامی بیلسٹک میزائل حملے کا نشانہ بنایا ہے۔

یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی سعودی عرب کے علاقے نجران میں سعودی فوجی ٹھکانے کو بدر ایک بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنیا گیا ہے۔

یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے ایک بیان میں اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ میزائل ٹھیک اپنے نشانے پر جا کر لگا، اعلان کیا ہے کہ اس حملے میں سعودی اتحاد کے کئی فوجی ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔

سعودی عرب کی جانب سے یمن کے تمام تر محاصرے کے باوجود اس ملک کی دفاعی و فوجی توانائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی جانب سے سعودی اتحاد کی وحشیانہ جارحیت کے جواب میں سعودی عرب کے علاقوں میں فوجی ٹھکانوں پر حملے کئے جا رہے ہیں۔

دریں اثنا اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسف نے ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہےکہ یمن کے ایک کروڑ، دس لاکھ سے زائد بچوں میں غذائی اشیا کی شدید قلت کا سامنا ہے اور وہ محفوظ ٹھکانے اور سہولتوں کے فقدان کی بنا پر مختلف طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

بچوں کو نجات دلاؤ سے موسوم برطانیہ کی غیر سرکاری تنظمی نے بھی یمن میں چالیس لاکھ بچوں کی بھوک و افلاس اور انھیں لاحق موت کے خطرے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ الحدیدہ میں فوجی کارروائی سے یمن کے کروڑوں بچون کے لئے غذائی اشیا کی فراہمی میں مسائل کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ جارح سعودی اتحاد نے مغربی یمن میں الحدیدہ بندرگاہ پر قبضہ کرنے کے لئے تیرہ جون سے وحشیانہ جارحیت کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ یمن میں انسان دوستانہ امداد پہنچانے کے لئے الحدیدہ بندرگاہ ہی واحد ذریعہ ہے۔

قابل ذکر ہے کہ جارح سعودی اتحاد امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کی حمایت سے ان کے ہتھیاروں کو استعمال کرتے ہوئے یمن کے مظلوم اور نہتھے عام شہریوں کا وسیع پیمانے پر خون بہا رہا ہے اور یمن کے خلاف سعودی اتحاد کی جارحیت میں مختلف قسم کے ممنوعہ ہتھیار بھی استمعال کئے جا رہے ہیں جن کا بیشتر نشانہ یمنی عورتیں اور بچے عام شہری ہی بن رہے ہیں۔

Sep ۱۴, ۲۰۱۸ ۱۹:۱۷ Asia/Tehran
کمنٹس