Dec ۱۰, ۲۰۱۸ ۱۸:۱۴ Asia/Tehran
  • عراق میں داعش کی شکست کی پہلی سالگرہ

عراقی عوام نے پیر دس دسمبر کو امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مسلط کردہ داعش دہشت گرد گروہ سے آزادی کی پہلی سالگرہ کا جشن منایا ۔ داعش سے نجات کی پہلی سالگرہ پر انھوں نے مرجع تقلید آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی کے اس فتوے کو بھی یاد کیا جو عراق سے امریکا کے خطرناک منصوبے کے جڑ سے ختم ہونے کا باعث بنا

عراقی کیلنڈر میں میں دس دسمبر کو ، مغرب اور خطےکی رجعت پسند طاقتوں کے حمایت یافتہ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش سے ملک کے سبھی علاقوں کی مکمل آزادی کی سالگرہ کی مناسبت سے سرکاری چھٹی کا دن قرار دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ ایک سال قبل دس دسمبر دو ہزار سترہ کو عراق کے اس وقت کے وزیر اعظم حیدرالعبادی نے ملک کے داعش دہشت گرد گروہ کے وجود سے پوری طرح آزاد ہوجانے کا اعلان کیا تھا ۔القاعدہ سے وابستہ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش نے پندرہ اکتوبر دو ہزار چھے کو ابو عمر البغداد کی کمان میں عراق میں اپنے وجود کا اعلان کیا۔

اس گروہ نے عراق کے اندر بہت سی دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دیں ۔ ابو عمر البغدادی اور ابوحمزہ المہاجر کی ہلاکت کے بعد اپریل دو ہزار دس میں، ابوبکر البغدادی نے اس دہشت گرد گروہ کی کمان سنبھالی جس نے عراق کے ساتھ ہی شام میں بھی اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں کا دائرہ پھیلا دیا ۔تکفیری دہشت گرد گروہ داعش نے اس کے بعد امریکا، اسرائیل اور ان کی اتحادی اس خطے کی بعض رجعت پسند حکومتوں کی حمایت اور مدد سے ،سن دوہزار چودہ میں شام کے صوبہ رقہ پر پوری طرح قبضہ کرلیا ۔ اس گروہ نے اسی کے ساتھ صوبہ دیر الزور کے وسیع علاقوں پر بھی اپنا تسلط جماکے عراق سے ملنے والی شام کی سرحدی پٹی پر بھی اپنا کنٹرول قائم کرلیا۔داعش نے اسی طرح دو ہزار چودہ میں ہی عراق کے اندر موجود بعض دہشت گردو گروہوں اور ملک سے خیانت کرنے والے عناصر کے تعاون سے عراق پر حملہ کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے صوبہ نینوا کے شہر موصل پر قبضہ کرلیا ۔داعش نے شہر موصل کو عراق میں اپنی دہشت گردانہ حکومت کا دارالحکومت اعلان کیا اور اس کے بعد عراق کے صلاح الدین ، دیالی، اور الانبار صوبوں پر بھی قبضہ کرلیا۔داعش اسی طرح عراق میں اپنے دہشت گردانہ قبضے کو وسیع تر کرتے ہوئے بغداد اور مذہبی شہروں ، نجف اشرف، کربلائے معلی اور سامرا کے قریب پہنچ گیا ۔اس کے بعد نجف اشرف کے امام جمعہ شیخ مہدی کربلائی نے نماز جمعہ کے خطبوں میں آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی کے اس فتوے کا اعلان کیا کہ جو شخص بھی اسلحہ اٹھاسکتا ہو، اس پر اپنے ملک اور مقدس مقامات کے دفاع میں داعش کے خلاف جہاد کے لئے رضا کارانہ طور پر سیکورٹی دستوں میں بھرتی ہونا واجب ہے۔

آیت اللہ العظمی سیستانی کے اس فتوے کوجہاد کفائی کے فتوے سے تعبیر کیا گیا جس کے بعد عراقی جوان داعش کے خلاف جہاد کے لئے عوامی رضاکار فورس میں بھرتی کے لئے نکل پڑے ۔اس طرح عراق میں مغرب اور خطے کی بعض رجعت پسند حکومتوں کے حمایت یافتہ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف جنگ کے لئے عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی تشکیل پائی۔

عراق کی عوامی رضاکارفورس الحشد الشعبی نے آمرلی ، ضلوعیہ ، بلد اور دیالی جیسے شہروں کی آزادی میں بنیادی کردار ادا کیا -باوجود اس کے کہ الحشد الشعبی کے جوانوں کی اکثریت شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہے لیکن اس میں سنی اور مسیحی رضاکار جوان بھی شامل ہیں -لیکن الحشد الشعبی کا سب سے بڑا کارنامہ تکریت شہر کو آزاد کرانا تھا - اس فورس نے رمادی ، فلوجہ اور سرانجام موصل کو داعش کے قبضے سے آزاد کرانے میں بھی اہم کردار ادا کیا -الحشد الشعبی نے ہی موصل کا محاصرہ مکمل کیا اور اس کے بعد ہی عراقی فوج اس شہر میں داخل ہوئی -یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ عراق کے سبھی علاقوں کو داعش کے قبضے سے آزاد کرنے میں ایران کی فوجی مشاورت بھی انتہائی ہی موثر ثابت ہوئی -اس طرح عراق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی تاریخ کے اہم ترین مرحلے کو کامیابی کے ساتھ سر کرنے میں کامیاب ہوگیا -داعش کے خلاف عراق کی مکمل فتح اور کامیابی ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب امریکی حکام نے عراق میں داعش کو شکست دینے کے لئے طویل المیعاد منصوبہ پیش کیا تھا تاکہ وہ اس بہانے عراق میں کئی عشروں تک اپنی فوجی موجودگی کا جواز فراہم کرسکیں لیکن عراقی فوج اور عوامی رضاکار فورس الحشدالشعبی نے ایران کی فوجی مشاورت سے تین سال کے اندر ہی اپنے ملک سے داعش کی بساط لپیٹ دی ہے۔

ٹیگس

کمنٹس