Aug ۱۳, ۲۰۱۹ ۰۹:۲۹ Asia/Tehran
  • ایران اور سعودی عرب میں جنگ کا خدشہ، اسرائیلی تجزیہ نگار کا زبردست انکشاف

ایسے حالات میں کہ جب سعودی عرب، ایران سے نزدیک ہونے کی خواہشات کا اظہار کر رہا ہے مشرقی امور کے ایک اسرائیلی ماہر نے اپنے مقالے میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان جنگ کا خدشہ ظاہر کیا ہے اور انہوں نے اپنے خدشات کے اسباب بھی بیان کئے ہیں ۔

مشرقی امور کے اسرائیلی ماہر شاوول اینائی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، امریکا کو چھوڑ کر اگلے مرحلے کے بارے میں غور کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاض، واشنگٹن سے آگے بڑھ کر ایک نیا اتحاد بنانے پر کام کر رہا ہے جیسا کہ اس نے مصر، اردن اور سوڈان جیسے ممالک کے ساتھ مل کر بحیرہ احمر اتحاد بنایا ہے۔

اس اسرائیلی تجزیہ نگار نے تاکید کی ہے کہ سعودی عرب، سوڈان میں ایران کے اثر و رسوخ کو کم کرنے میں کامیاب رہا ہے جبکہ ایران کا اصل مقصد، بحیرہ احمر میں جہازوں کی آمد و رفت کے لئے بہت اہم، آبنائے باب المندب پر قبضہ کرنا ہے ۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں بہت دنوں سے یہ رپورٹ شائع ہو رہی ہے ہ ایران نے ایریٹیریا میں فوجی اڈہ بنا لیا ہے جس کی وجہ سے اس کے لئے آبنائے باب المندب کے نزدیک رہنا ممکن ہو گیا ہے جبکہ امریکی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ ایریٹیریا میں اسرائیل کے متعدد فوجی ٹھکانے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی اچھی بات ہے کہ عرب ممالک کے اسرائیل کے تعلقات اچھے ہو گئے ہیں اور اب ان کے لئے مسئلہ فلسطین سب سے اہم مسئلہ نہیں رہ گیا ہے۔

اسرائیلی تجزیہ نگار شاؤول اینائی لکھتے ہیں کہ اس وقت بھی سعوید عرب میں کئی اسرائیلی کمپنیاں کام کر رہی ہیں جبکہ 1970 سے اسرائیلی منصوعات خلیج فارس کے ممالک کو در آمد کی جا رہی ہیں جبکہ اسرائیلی لوگ، بہت پہلے سے ان ممالک میں سرگرم رہے ہیں ۔

سعودی عرب اور ایران، دونوں کی ملکوں میں اسلام کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور مذہب و سیاست کو ایک ہی سمجھا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے مذہبی مواقف میں دوسرے ممالک کے مذاہب کو غلط کہا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سعودی عرب اور ایران کے حکومتی حلقوں میں موجود افراد کا یہ خیال ہے کہ مشرق وسطی پر امریکی تسلط کا وقت ختم ہو چکا ہے اور یہ وہ چیز ہے جسے ایران بہت پہلے ہی سمجھ چکا تھا جس کی تائید آیت اللہ خمینی کے اس نعرے سے ہوتی ہے کہ "نہ مشرق نہ مغرب بلکہ جمہوریہ اسلامی۔ کیونکہ انہیں پتا تھا کہ اس نعرے سے ایران میں اسلامی انقلاب کامیاب ہو جائے گا۔

دوسری طرف سعودی عرب کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ مشرق وسطی میں امریکا کی مداخلت جاری رہے لیکن زمینی حقیقت سعودی عرب کی خواہشات کے مطابق نہیں ہے اس لئے ریاض اب اس دن کی تیاری کر رہا ہے جب اسے امریکی مدد کے بغیر ہی ایران کی قیادت میں شیعہ اتحاد سے ٹکرانا پڑے ۔

شاؤول اینائی لکھتےہیں کہ اس تصادم کی صورت میں حالات بہت خطرناک ہوں گے اور بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی رقابت شروع ہو جائے گی اور یقینی طور پر ان میں سے ایک کے ساتھ اسرائیل ہوگا۔ اس لئے سعودی عرب ایران کے ساتھ سرد جنگ کے اگلے مرحلے یعنی براہ راست تصادم کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

شاؤول اینائی کا کہنا ہے کہ ایران ار سعودی عرب کے درمیان جنگ کی صورت میں ایرانی محاذ میں شام اور عراق کے علاوہ حزب اللہ، جہاد اسلامی، عراقی رضاکار فورس اور یمن کے الحوثی ہوں گے جبکہ امید ہے کہ سعودی عرب کو متحدہ عرب امارات، اردن، مصر بلکہ اسرائیل تک کا ساتھ ملے گا۔ اس سلسلے میں اسرائیل، ایران کے حامیوں کا راستہ روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

شاؤول اینائی کا کہنا ہے کہ مشرق وسطی میں سرد جنگ کی بات کرنا غلط ہے کیونکہ جسے سرد جنگ کہا جا رہا ہے اس میں دس لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ دو کروڑ سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں ۔

اسرائیلی تجزیہ نگار شاؤول اینائی نے مشرق وسطی کی جنگوں میں اسرائیل کے کردار کا ذکر کئے بغیر دعوی کیا کہ اس سب کی ذمہ داری، ایران اور سعودی عرب ہے ۔

بشکریہ

رای الیوم

*مقالہ نگار کے موقف سے سحر عالمی نیٹ ورک کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے*

ٹیگس

کمنٹس