Aug ۱۷, ۲۰۱۹ ۱۴:۴۸ Asia/Tehran
  • یمنی فوج نے سعودی عرب کے فوجی اڈوں پر ایک بار پھر میزائلوں کی بارش کی

جنوبی سعودی عرب کے فوجی مراکز اور اہم سرکاری تنصیبات پر یمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے سعودی عرب کے جنوبی صوبے عسیر میں دوبارہ علب گذرگاہ کے قریب سعودی اتحاد کے فوجی ٹھکانوں پر زلزال ایک میزائلوں سے حملہ کیا-

یمنی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ سعودی اتحاد کے ٹھکانوں پر یمنی فوج کے میزائلوں کی بارش کے نتیجے میں سعودی عرب اور اس کے اتحادی ملکوں کے فوجیوں کو زبردست جانی اور مالی نقصان پہنچا-

یمنی فوج نے جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب بھی علب گذرگاہ کے قریب جارح سعودی اتحاد کے ٹھکانوں پر زلزال ایک میزائلوں سے حملہ کیا تھا-

یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس تقریبا ہر روز سعودی عرب کے اندر بیلسٹک میزائلوں سے جوابی حملے کرتی ہیں- یمنی فوج کے یہ حملے یمن پر جارح سعودی اتحاد کے وحشیانہ حملوں کے جواب میں انجام پا رہے ہیں-

جارح سعودی اتحاد گذشتہ ساڑھے چار سال سے یمنی شہریوں کا قتل عام کر رہا ہے-

اس درمیان یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے ڈرون یونٹ نے بھی سعودی عرب کے ابہا ہوائی اڈے پر حملہ کیا ہے-

یمنی فوج کے ترجمان یحیی السریع نے کہا ہے کہ قاصف ٹو کے ڈرون طیاروں نے ابہا ہوائی اڈے میں جارح سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں کے شیلٹروں اورحساس فوجی مراکز پر بمباری کی ہے-

یمنی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ان کے ڈرون طیاروں کے حملوں کی وجہ سے ابہا ہوائی اڈے کی پروازیں معطل ہو گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک جارح سعودی اتحاد کے حملے یمن پر جاری رہیں گے یمن کے پاس جوابی کارروائی کا حق بھی محفوظ رہے گا۔

جنوبی سعودی عرب کے ابہا اور جیزان کے ہوائی اڈوں اور اسی طرح ملک خالد ایئربیس کو پچھلے ہفتوں سے یمنی فوج کے ڈرون یونٹ مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں-

سعودی عرب کے ان ہوائی اڈوں کو جارح سعودی اتحادکے جنگی طیارے یمن پر بمباری کے لئے استعمال کرتے ہیں- سعودی عرب، متحد عرب امارات اور کئی دیگر ملکوں نے مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن کو اپنی وحشیانہ جارحیتوں کا نشانہ بنا رکھا ہے جن میں دسیوں ہزار بے گناہ یمنی شہری شہید اور زخمی ہو چکے ہیں-

جارح اتحاد نے یمن کا چاروں طرف سے محاصرہ بھی کر رکھا ہے کہ جس کی وجہ سے یمنی عوام کو خوراک اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا اور لاکھوں کی تعداد میں یمنی شہری بھوک مری کا شکار ہو چکےہیں جبکہ  بڑی تعداد میں بیماروں اور مریضوں کو جان کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

ٹیگس

کمنٹس